جامع الترمذي حدیث نمبر: 1992
Jami at-Tirmidhi 1992
کتاب #28: کتاب: نیکی اور صلہ رحمی
57: باب مَا جَاءَ فِي الْمِزَاحِ
باب: ہنسی مذاق، خوش طبعی اور دل لگی کا بیان۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ: " يَا ذَا الْأُذُنَيْنِ "، قَالَ مَحْمُودٌ: قَالَ أَبُو أُسَامَةَ: يَعْنِي مَازَحَهُ، وَهَذَا الْحَدِيثُ حَدِيثٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا : ” اے دو کان والے ! “ محمود بن غیلان کہتے ہیں : ابواسامہ نے کہا ، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے مزاح کیا ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث صحیح غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1992]
قال الشيخ الألباني:
صحيح مختصر الشمائل (200)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الأدب 92 (5002)، ویأتي في المناقب 56 (برقم: 3828) (تحفة الأشراف: 934)، و مسند احمد (3/117، 127، 242، 260) (صحیح)