جامع الترمذي حدیث نمبر: 1991
Jami at-Tirmidhi 1991
کتاب #28: کتاب: نیکی اور صلہ رحمی
57: باب مَا جَاءَ فِي الْمِزَاحِ
باب: ہنسی مذاق، خوش طبعی اور دل لگی کا بیان۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْوَاسِطِيُّ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَجُلًا اسْتَحْمَل رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي حَامِلُكَ عَلَى وَلَدِ النَّاقَةِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَصْنَعُ بِوَلَدِ النَّاقَةِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَهَلْ تَلِدُ الْإِبِلَ إِلَّا النُّوقُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سواری کی درخواست کی ، آپ نے فرمایا : ” میں تمہیں سواری کے لیے اونٹنی کا بچہ دوں گا “ ، اس آدمی نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں اونٹنی کا بچہ کیا کروں گا ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بھلا اونٹ کو اونٹنی کے سوا کوئی اور بھی جنتی ہے ؟ “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1991]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اونٹ اونٹنی کا بچہ ہی تو ہے، ایسے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر فرمایا تھا: «لا تدخل الجنة عجوز» یعنی ”بوڑھیا جنت میں نہیں جائیں گی“، جس کا مطلب یہ تھا کہ جنت میں داخل ہوتے وقت ہر عورت نوجوان ہو گی، اسی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان: «إني حاملك على ولد الناقة» کا بھی حال ہے، مفہوم یہ ہے کہ اگر کہنے والے کی بات پر غور کر لیا جائے تو پھر سوال کی ضرورت ہی پیش نہیں آئے گی۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، المشكاة (4886)، مختصر الشمائل (203)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الأدب 92 (4998) (تحفة الأشراف: 655) (صحیح)