📖 جامع الترمذي • فہرست کتب (Book Index) ↗

جامع الترمذي

Jami at-Tirmidhi (جَامِعُ التِّرْمِذِيِّ)
📁 کتاب: نیکی اور صلہ رحمی (كتاب البر والصلة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم) 🏷️ باب: باب: بھائی کے ساتھ مروت اور غم خواری کا بیان۔
عربی:
اردو:
جامع الترمذي حدیث نمبر: 1933 Jami at-Tirmidhi 1933
کتاب #28: کتاب: نیکی اور صلہ رحمی
22: باب مَا جَاءَ فِي مُوَاسَاةِ الأَخِ
باب: بھائی کے ساتھ مروت اور غم خواری کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ الْمَدِينَةَ، آخَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ، فَقَالَ لَهُ: هَلُمَّ أُقَاسِمُكَ مَالِي نِصْفَيْنِ، وَلِيَ امْرَأَتَانِ، فَأُطَلِّقُ إِحْدَاهُمَا فَإِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُهَا فَتَزَوَّجْهَا، فَقَالَ: بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِي أَهْلِكَ وَمَالِكَ، دُلُّونِي عَلَى السُّوقِ فَدَلُّوهُ عَلَى السُّوقِ فَمَا رَجَعَ يَوْمَئِذٍ إِلَّا وَمَعَهُ شَيْءٌ مِنْ أَقِطٍ وَسَمْنٍ قَدِ اسْتَفْضَلَهُ، فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ وَعَلَيْهِ وَضَرٌ مِنْ صُفْرَةٍ، فَقَالَ: " مَهْيَمْ "، قَالَ: تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ: " فَمَا أَصْدَقْتَهَا؟ " قَالَ: نَوَاةً، قَالَ حُمَيْدٌ: أَوْ قَالَ: وَزْنَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ: " أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ؟ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: وَزْنُ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ وَزْنُ ثَلَاثَةِ دَرَاهِمَ وَثُلُثٍ، وَقَالَ إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ: وَزْنُ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ وَزْنُ خَمْسَةِ دَرَاهِمَ، سَمِعْتُ إِسْحَاق بْنَ مَنْصُورٍ يَذْكُرُ عَنْهُمَا هَذَا.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ ( ہجرت کر کے ) مدینہ آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اور سعد بن ربیع کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا ، سعد بن ربیع نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ سے کہا : آؤ تمہارے لیے اپنا آدھا مال بانٹ دوں ، اور میرے پاس دو بیویاں ہیں ان میں سے ایک کو طلاق دے دیتا ہوں ، جب اس کی عدت گزر جائے تو اس سے شادی کر لو ، عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ نے کہا : اللہ تعالیٰ تمہارے مال اور تمہاری اولاد میں برکت دے ، مجھے بازار کا راستہ بتاؤ ، انہوں نے ان کو بازار کا راستہ بتا دیا ، اس دن وہ ( بازار سے ) کچھ پنیر اور گھی لے کر ہی لوٹے جو نفع میں انہیں حاصل ہوا تھا ، اس کے ( کچھ دنوں ) بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اوپر زردی کا اثر دیکھا تو پوچھا : کیا بات ہے ؟ “ ( یہ زردی کیسی ) کہا : میں نے ایک انصاری عورت سے شادی کی ہے ، آپ نے پوچھا : ” اس کو مہر میں تم نے کیا دیا ؟ “ کہا : ایک ( سونے کی ) گٹھلی ، ( یا گٹھلی کے برابر سونا ) آپ نے فرمایا : ” ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری ہی کا ہو “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- احمد کہتے ہیں : گٹھلی کے برابر سونا سوا تین درہم کے برابر ہوتا ہے ، ¤ ۳- اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ کہتے ہیں : گٹھلی کے برابر سونا ، پانچ درہم کے برابر ہوتا ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1933]
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (1907)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/البیوع 1 (2049)، والکفالة 2 (2293)، مناقب الأنصار 3 (3781)، و 50 (3937)، والنکاح 68 (5167)، والأدب 67 (6082) (تحفة الأشراف: 571)، و مسند احمد (3/190، 204، 271) (صحیح)
جامع الترمذي • حدیث #1933
1931 1932 1933 1934 1935
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ