جامع الترمذي حدیث نمبر: 1935
Jami at-Tirmidhi 1935
کتاب #28: کتاب: نیکی اور صلہ رحمی
24: باب مَا جَاءَ فِي الْحَسَدِ
باب: حسد کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ الْعَطَّارُ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَقَاطَعُوا، وَلَا تَدَابَرُوا، وَلَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَحَاسَدُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا، وَلَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثٍ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، وَالزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ، وَابْنِ مَسْعُودٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آپس میں قطع تعلق نہ کرو ، ایک دوسرے سے بےرخی نہ اختیار کرو ، باہم دشمنی و بغض نہ رکھو ، ایک دوسرے سے حسد نہ کرو ، اللہ کے بندو ! آپس میں بھائی بھائی بن جاؤ ، کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ تین دن سے زیادہ اپنے مسلمان بھائی سے سلام کلام بند رکھے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں ابوبکر صدیق ، زبیر بن عوام ، ابن مسعود اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1935]
💡 وضاحت:
۱؎: اسلام نے مسلم معاشرہ کی اصلاح اور اس کی بہتری کا خاص خیال رکھا ہے، اس حدیث میں جن باتوں کا ذکر ہے ان کا تعلق بھی اصلاح معاشرہ اور سماج کی سدھار سے ہے، صلہ رحمی کا حکم دیا گیا ہے، ہاہمی بغض و عناد اور دشمنی سے باز رہنے کو کہا گیا ہے، حسد جو معاشرہ کے لیے ایسی مہلک بیماری ہے جس سے نیکیاں جل کر راکھ ہو جاتی ہیں، اس سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الإرواء (7 / 93)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الأدب 57 (6065)، 62 (6076)، صحیح مسلم/البر والصلة 7 (2559)، سنن ابی داود/ الأدب 55 (4910) (تحفة الأشراف: 1488)، و مسند احمد (3/199) (صحیح)