جامع الترمذي حدیث نمبر: 1932
Jami at-Tirmidhi 1932
کتاب #28: کتاب: نیکی اور صلہ رحمی
21: باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الْهَجْرِ لِلْمُسْلِمِ
باب: مسلمان سے ترک تعلق اور اس سے بےرخی برتنے کی حرمت کا بیان۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ. ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثٍ، يَلْتَقِيَانِ فَيَصُدُّ هَذَا وَيَصُدُّ هَذَا وَخَيْرُهُمَا الَّذِي يَبْدَأُ بِالسَّلَامِ "، قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَأَنَسٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَهِشَامِ بْنِ عَامِرٍ، وَأَبِي هِنْدٍ الدَّارِيِّ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوایوب انصاری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ اپنے ( کسی دوسرے مسلمان ) بھائی سے تین دن سے زیادہ سلام کلام بند رکھے ، جب دونوں کا آمنا سامنا ہو تو وہ اس سے منہ پھیر لے اور یہ اس سے منہ پھیر لے ، اور ان دونوں میں بہتر وہ ہے جو پہلے سلام کرے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں عبداللہ بن مسعود ، انس ، ابوہریرہ ، ہشام بن عامر اور ابوہند داری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1932]
💡 وضاحت:
۱؎: معلوم ہوا کہ تین دن سے زیادہ کسی مسلمان بھائی سے ذاتی نوعیت کے معاملات کی وجہ سے ناراض رہنا درست نہیں، اور اگر اس ناراضگی کا تعلق کسی دینی معاملہ سے ہو تو علماء کا کہنا ہے کہ اس وقت تک قطع تعلق درست ہے جب تک وہ سبب دور نہ ہو جائے جس سے یہ دینی ناراضگی پائی جا رہی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الإرواء (2029)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الأدب 62 (6077)، والإستئذان 9 (6237)، صحیح مسلم/البر والصلة 8 (2560) (تحفة الأشراف: 3479) (صحیح)