جامع الترمذي حدیث نمبر: 1535
Jami at-Tirmidhi 1535
کتاب #21: کتاب: نذر اور قسم (حلف) کے احکام و مسائل
8: باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الْحَلِفِ بِغَيْرِ اللَّهِ
باب: غیر اللہ کی قسم کھانے کی حرمت کا بیان۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ , حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ , عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ , أَنَّ ابْنَ عُمَرَ سَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ: لَا , وَالْكَعْبَةِ , فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: لَا يُحْلَفُ بِغَيْرِ اللَّهِ , سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ حَلَفَ بِغَيْرِ اللَّهِ فَقَدْ كَفَرَ أَوْ أَشْرَكَ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ , وَفُسِّرَ هَذَا الْحَدِيثُ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ , أَنَّ قَوْلَهُ: " فَقَدْ كَفَرَ أَوْ أَشْرَكَ " , عَلَى التَّغْلِيظِ وَالْحُجَّةُ , فِي ذَلِكَ حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , سَمِعَ عُمَرَ يَقُولُ: وَأَبِي وَأَبِي , فَقَالَ: " أَلَا إِنَّ اللَّهَ يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ "، وَحَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ قَالَ فِي حَلِفِهِ وَاللَّاتِ وَالْعُزَّى , فَلْيَقُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا مِثْلُ مَا رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ الرِّيَاءَ شِرْكٌ , وَقَدْ فَسَّرَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ هَذِهِ الْآيَةَ: فَمَنْ كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلا صَالِحًا سورة الكهف آية 110 قَالَ: لَا يُرَائِي.
سعد بن عبیدہ سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی الله عنہما نے ایک آدمی کو کہتے سنا : ایسا نہیں قسم ہے کعبہ کی ، تو اس سے کہا : غیر اللہ کی قسم نہ کھائی جائے ، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” جس نے غیر اللہ کی قسم کھائی اس نے کفر کیا یا شرک کیا “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن ہے ، ¤ ۲- اس حدیث کی تفسیر بعض اہل علم کے نزدیک یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان «فقد كفر أو أشرك» تنبیہ و تغلیظ کے طور پر ہے ، اس کی دلیل ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر کو کہتے سنا : میرے باپ کی قسم ، میرے باپ کی قسم ! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ باپ ، دادا کی قسم کھانے سے منع فرماتا ہے “ ، نیز ابوہریرہ رضی الله عنہ کی ( روایت ) کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے لات اور عزیٰ کی قسم کھائی وہ «لا إله إلا الله» کہے ، © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۳- یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کی طرح ہے ” بیشک ریا ، شرک ہے ، ¤ ۴- بعض اہل علم نے آیت کریمہ «فمن كان يرجو لقاء ربه فليعمل عملا صالحا» ( الکہف : ۱۱۰ ) کی یہ تفسیر کی ہے کہ وہ ریا نہ کرے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1535]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الإرواء (2561)، الصحيحة (2042)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الأیمان 5 (3251)، (تحفة الأشراف: 7045)، و مسند احمد 2/87، 125) (صحیح)