جامع الترمذي حدیث نمبر: 1533
Jami at-Tirmidhi 1533
کتاب #21: کتاب: نذر اور قسم (حلف) کے احکام و مسائل
8: باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الْحَلِفِ بِغَيْرِ اللَّهِ
باب: غیر اللہ کی قسم کھانے کی حرمت کا بیان۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ , عَنْ أَبِيهِ , سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمَرَ وَهُوَ يَقُولُ: وَأَبِي وَأَبِي , فَقَالَ: " أَلَا إِنَّ اللَّهَ يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ " , فَقَالَ عُمَرُ: فَوَاللَّهِ , مَا حَلَفْتُ بِهِ بَعْدَ ذَلِكَ ذَاكِرًا وَلَا آثِرًا , قَالَ: وَفِي الْبَاب , عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ , وَابْنِ عَبَّاسٍ , وَأَبِي هُرَيْرَةَ , وَقُتَيْلَةَ , وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ , قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , قَالَ أَبُو عِيسَى , قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ , مَعْنَى قَوْلِهِ: وَلَا آثِرًا , أَيْ: لَمْ آثُرْهُ عَنْ غَيْرِي , يَقُولُ: لَمْ أَذْكُرْهُ عَنْ غَيْرِي.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی الله عنہ کو کہتے سنا : میرے باپ کی قسم ! میرے باپ کی قسم ! آپ نے ( انہیں بلا کر ) فرمایا : ” سنو ! اللہ نے تمہیں اپنے باپ دادا کی قسم کھانے سے منع فرمایا ہے “ ، عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں : اللہ کی قسم اس کے بعد میں نے ( باپ دادا کی ) قسم نہیں کھائی ، نہ جان بوجھ کر اور نہ ہی کسی کی بات نقل کرتے ہوئے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- ابن عمر کی حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں ثابت بن ضحاک ، ابن عباس ، ابوہریرہ ، قتیلہ اور عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، ¤ ۳- ابو عبید کہتے ہیں کہ عمر کے قول «ولا آثرا» کے یہ معنی ہیں «لم آثره عن غيري» ( میں نے دوسرے کی طرف سے بھی نقل نہیں کیا ) عرب اس جملہ کو «لم أذكره عن غيري» کے معنی میں استعمال کرتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1533]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (2094)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الأدب 74 (6108)، و الأیمان 4 (6646، وتعلیقاً بعد حدیث 6647) صحیح مسلم/الأیمان 1 (1646/3)، سنن النسائی/الأیمان 4 (3796)، و 5 (3797)، (تحفة الأشراف: 6818)، وط/النذور 9 (14)، و مسند احمد (2/11، 34، 96) (صحیح)