جامع الترمذي حدیث نمبر: 1528
Jami at-Tirmidhi 1528
کتاب #21: کتاب: نذر اور قسم (حلف) کے احکام و مسائل
4: باب مَا جَاءَ فِي كَفَّارَةِ النَّذْرِ إِذَا لَمْ يُسَمَّ
باب: غیر متعین نذر کے کفارہ کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ , حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ مَوْلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ , حَدَّثَنِي كَعْبُ بْنُ عَلْقَمَةَ , عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَفَّارَةُ النَّذْرِ إِذَا لَمْ يُسَمَّ كَفَّارَةُ يَمِينٍ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
عقبہ بن عامر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” غیر متعین نذر کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1528]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی جس نے کوئی نذر مانی اور اس کا نام نہیں لیا یعنی صرف اتنا کہا کہ اگر میری مراد پوری ہو جائے تو مجھ پر نذر ہے تو اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، وهو صحيح دون قوله: " إذا لم يسم "، الإرواء (2586)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(1528) إسناده ضعيف ¤ محمد بن يزيد، مولي المغيره بن شعبة: مجھول الحال (تق: 6398) وحدث مسلم (1645) يغني عنه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/النذور 5 (1645)، سنن ابی داود/ الأیمان 31 (3323)، سنن النسائی/الأیمان 41 (3863)، سنن ابن ماجہ/الکفارات 17 (2125)، (تحفة الأشراف: 9960)، و مسند احمد (4/144، 146، 147) (صحیح) (لیکن ”لم یسم“ کا لفظ صحیح نہیں ہے، اور یہ مؤلف کے سوا کسی کے یہاں ہے بھی نہیں (جبکہ ابوداود نے اسی کا لحاظ رکھ کر ”من نذر نذراً لم یسم“ کا باب باندھا ہے) یہ مؤلف کے راوی ”محمد مولیٰ المغیرہ“ کا اضافہ ہے جو خود مجہول راوی ہیں، یہ دیگر کی سندوں میں نہیں ہیں)