جامع الترمذي حدیث نمبر: 1526
Jami at-Tirmidhi 1526
کتاب #21: کتاب: نذر اور قسم (حلف) کے احکام و مسائل
2: باب مَنْ نَذَرَ أَنْ يُطِيعَ اللَّهَ فَلْيُطِعْهُ
باب: جو شخص اللہ کی اطاعت کی نذر مانے تو اسے اللہ کی اطاعت کرنی چاہئے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ , عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ الْأَيْلِيِّ , عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ , عَنْ عَائِشَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ نَذَرَ أَنْ يُطِيعَ اللَّهَ فَلْيُطِعْهُ , وَمَنْ نَذَرَ أَنْ يَعْصِيَ اللَّهَ فَلَا يَعْصِهِ " , حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ , عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ الْأَيْلِيِّ , عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ , عَنْ عَائِشَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , وَقَدْ رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ , وَهُوَ قَوْلُ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ , وَبِهِ يَقُولُ مَالِكٌ , وَالشَّافِعِيُّ , قَالُوا: لَا يَعْصِي اللَّهَ وَلَيْسَ فِيهِ كَفَّارَةُ يَمِينٍ إِذَا كَانَ النَّذْرُ فِي مَعْصِيَةٍ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص نذر مانے کہ وہ اللہ کی اطاعت کرے گا تو وہ اللہ کی اطاعت کرے ، اور جو شخص نذر مانے کہ وہ اللہ کی نافرمانی کرے گا تو وہ اللہ کی نافرمانی نہ کرے “ ۔ اس سند سے بھی عائشہ رضی الله عنہا سے اسی جیسی حدیث مروی ہے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اسے یحییٰ بن ابی کثیر نے بھی قاسم بن محمد سے روایت کیا ہے ، ¤ ۳- بعض اہل علم صحابہ اور دوسرے لوگوں کا یہی قول ہے ، مالک اور شافعی کا بھی یہی قول ہے ، یہ لوگ کہتے ہیں کہ اللہ کی نافرمانی نہ کرے اور جب نذر اللہ کی نافرمانی کی بابت ہو تو اس میں قسم کا کفارہ نہیں ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1526]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (2126)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الأیمان والنذور 28 (6700)، سنن ابی داود/ الأیمان 22 (3289)، سنن النسائی/الأیمان 27 (3839)، سنن ابن ماجہ/الکفارات 16 (3126)، (تحفة الأشراف: 17458)، وط/النذور 4 (8)، و مسند احمد (6/36، 41، 224) سنن الدارمی/النذور 3 (2383) (صحیح)