📖 جامع الترمذي • فہرست کتب (Book Index) ↗

جامع الترمذي

Jami at-Tirmidhi (جَامِعُ التِّرْمِذِيِّ)
📁 کتاب: شکار کے احکام و مسائل (كتاب الصيد والذبائح عن رسول الله صلى الله عليه وسلم) 🏷️ باب: باب: کتے کا کون سا شکار کھایا جائے اور کون سا نہ کھایا جائے؟
عربی:
اردو:
جامع الترمذي حدیث نمبر: 1465 Jami at-Tirmidhi 1465
کتاب #19: کتاب: شکار کے احکام و مسائل
1: باب مَا جَاءَ مَا يُؤْكَلُ مِنْ صَيْدِ الْكَلْبِ وَمَا لاَ يُؤْكَلُ
باب: کتے کا کون سا شکار کھایا جائے اور کون سا نہ کھایا جائے؟
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ , حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ , عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ , قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّا نُرْسِلُ كِلَابًا لَنَا مُعَلَّمَةً , قَالَ: " كُلْ مَا أَمْسَكْنَ عَلَيْكَ " , قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَإِنْ قَتَلْنَ , قَالَ: " وَإِنْ قَتَلْنَ , مَا لَمْ يَشْرَكْهَا كَلْبٌ غَيْرُهَا " , قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّا نَرْمِي بِالْمِعْرَاضِ , قَالَ: " مَا خَزَقَ فَكُلْ , وَمَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَلَا تَأْكُلْ " , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ مَنْصُورٍ , نَحْوَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: وَسُئِلَ عَنِ الْمِعْرَاضِ , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عدی بن حاتم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم لوگ اپنے سدھائے ۱؎ ہوئے کتے ( شکار کے لیے ) روانہ کرتے ہیں ( یہ کیا ہے ؟ ) آپ نے فرمایا : ” وہ جو کچھ تمہارے لیے روک رکھیں اسے کھاؤ “ ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اگرچہ وہ شکار کو مار ڈالیں ؟ آپ نے فرمایا : ” اگرچہ وہ ( شکار کو ) مار ڈالیں ( پھر بھی حلال ہے ) جب تک ان کے ساتھ دوسرا کتا شریک نہ ہو “ ، عدی بن حاتم کہتے ہیں : میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم لوگ «معراض» ( ہتھیار کی چوڑان ) سے شکار کرتے ہیں ، ( اس کا کیا حکم ہے ؟ ) آپ نے فرمایا : ” جو ( ہتھیار کی نوک سے ) پھٹ جائے اسے کھاؤ اور جو اس کے عرض ( بغیر دھاردار حصے یعنی چوڑان ) سے مر جائے اسے مت کھاؤ ۔ اس سند سے بھی اسی جیسی حدیث روایت کی گئی ہے ، مگر اس میں ہے «وسئل عن المعراض» ” یعنی آپ سے معراض کے بارے میں پوچھا گیا “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1465]
💡 وضاحت:
۱؎: سدھائے ہوئے جانور کا مطلب ہے کہ جب اسے شکار پر چھوڑا جائے تو دوڑتا ہوا جائے، جب روک دیا جائے تو رک جائے اور بلایا جائے تو واپس آ جائے۔ اس حدیث سے کئی مسئلے معلوم ہوئے: (۱) سدھائے ہوئے کتے کا شکار مباح اور حلال ہے۔ (۲) کتا مُعَلَّم ہو یعنی اسے شکار کی تعلیم دی گئی ہو۔ (۳) اس سدھائے ہوئے کتے کو شکار کے لیے بھیجا گیا ہو پس اگر وہ خود سے بلا بھیجے شکار کر لائے تو اس کا کھانا حلال نہیں، یہی جمہور علماء کا قول ہے۔ (۴) کتے کو شکار پر بھیجتے وقت بسم اللہ کہا گیا ہو۔ (۵) سکھائے ہوئے کتے کے ساتھ کوئی دوسرا کتا شکار میں شریک نہ ہو اگر دوسرا شریک ہے تو حرمت کا پہلو غالب ہو گا اور یہ شکار حلال نہ ہو گا۔ (۶) کتا شکار میں سے کچھ نہ کھائے بلکہ اپنے مالک کے لیے محفوظ رکھے تب یہ شکار حلال ہو گا ورنہ نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (3208 و 3212 و 3214 و 3215)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الوضوء 33 (175)، والبیوع 3 (2054)، والصید 1 (5475)، و3 (5476)، و3 (5477)، و 7 (5483)، و 8 (5484)، و 9 (5486)، و 10 (5487)، صحیح مسلم/الصید 1 (1929)، سنن ابی داود/ الصید 2 (2847)، سنن النسائی/الصید 1 (4268)، و2 (4269)، و 3 (4270)، و 8 (4279)، و 21 (4310)، سنن ابن ماجہ/الصید 3 (3208)، و 5 (3212)، و 6 3213)، و 7 (3215)، (تحفة الأشراف: 9878)، و مسند احمد (4/256)، 257، 258، 377، 380)، سنن الدارمی/الصید 1 (2045) ویأتي بأرقام (1467-1471) (صحیح)
جامع الترمذي • حدیث #1465
1463 1464 1465 1466 1467

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#1464 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ , عَنْ ...
ابوثعلبہ خشنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم لوگ شکاری ہیں ؟ ( شکار کے ...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ