جامع الترمذي حدیث نمبر: 1466
Jami at-Tirmidhi 1466
کتاب #19: کتاب: شکار کے احکام و مسائل
2: باب مَا جَاءَ فِي صَيْدِ كَلْبِ الْمَجُوسِ
باب: مجوسی کے کتے کے شکار کا بیان۔
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , حَدَّثَنَا شَرِيكٌ , عَنْ الْحَجَّاجِ , عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ أَبِي بَزَّةَ , عَنْ سُلَيْمَانَ الْيَشْكُرِيِّ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: " نُهِينَا عَنْ صَيْدِ كَلْبِ الْمَجُوسِ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ , لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ , لَا يُرَخِّصُونَ فِي صَيْدِ كَلْبِ الْمَجُوسِ , وَالْقَاسِمُ بْنُ أَبِي بَزَّةَ هُوَ: الْقَاسِمُ بْنُ نَافِعٍ الْمَكِّيُّ.
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہمیں مجوسیوں کے کتے کے شکار سے منع کیا گیا ہے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں ، ¤ ۲- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے ، یہ لوگ مجوسی کے کتے کے شکار کی اجازت نہیں دیتے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1466]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، ابن ماجة (3209)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(1466) إسناده ضعيف /جه 3209 ¤ ضعفه البوصيري لتدليس حجاج بن أرطاة (تقدم: 527)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الصید 4 (3209)، (تحفة الأشراف: 2271) (ضعیف) (سند میں دو راوی ”شریک القاضی“ اور ”حجاج بن ارطاة“ ضعیف ہیں)