📖 جامع الترمذي • فہرست کتب (Book Index) ↗

جامع الترمذي

Jami at-Tirmidhi (جَامِعُ التِّرْمِذِيِّ)
📁 کتاب: حدود و تعزیرات سے متعلق احکام و مسائل (كتاب الحدود عن رسول الله صلى الله عليه وسلم) 🏷️ باب: باب: تعزیر (تادیبی کاروائی) کا بیان۔
عربی:
اردو:
جامع الترمذي حدیث نمبر: 1463 Jami at-Tirmidhi 1463
کتاب #18: کتاب: حدود و تعزیرات سے متعلق احکام و مسائل
30: باب مَا جَاءَ فِي التَّعْزِيرِ
باب: تعزیر (تادیبی کاروائی) کا بیان۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ , حَدَّثَنَا اللَّيْثُ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبيبٍ , عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ , عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يُجْلَدُ فَوْقَ عَشْرِ جَلَدَاتٍ , إِلَّا فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ , لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ , وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي التَّعْزِيرِ , وَأَحْسَنُ شَيْءٍ رُوِيَ فِي التَّعْزِيرِ , هَذَا الْحَدِيثُ , قَالَ: وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ ابْنُ لَهِيعَةَ , عَنْ بُكَيْرٍ , فَأَخْطَأَ فِيهِ , وَقَالَ: عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَهُوَ خَطَأٌ , وَالصَّحِيحُ حَدِيثُ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ , إِنَّمَا هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ابوبردہ بن نیار رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا : ” دس سے زیادہ کسی کو کوڑے نہ لگائے جائیں ۱؎ سوائے اس کے کہ اللہ کی حدود میں سے کوئی حد جاری کرنا ہو “ ۲؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ہم اسے صرف بکیر بن اشج کی روایت سے جانتے ہیں ۔ ¤ ۲-تعزیر کے سلسلے میں اہل علم کا اختلاف ہے ، تعزیر کے باب میں یہ حدیث سب سے اچھی ہے ، ¤ ۳- اس حدیث کو ابن لہیعہ نے بکیر سے روایت کیا ہے ، لیکن ان سے اس سند میں غلطی ہوئی ہے ، انہوں نے سند اس طرح بیان کی ہے : «عن عبدالرحمٰن بن جابر بن عبد الله عن أبيه عن النبي صلى الله عليه وسلم» حالانکہ یہ غلط ہے ، صحیح لیث بن سعد کی حدیث ہے ، اس کی سند اس طرح ہے : «عبدالرحمٰن بن جابر بن عبد الله عن أبي بردة بن نيار عن النبي صلى الله عليه وسلم» ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1463]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے کا صحیح محل یہ ہے کہ یہ بال بچوں اور غلام و خادم کی تادیب سے متعلق ہے کہ آدمی اپنے زیر لوگوں کو ادب سکھائے تو دس کوڑے تک کی سزا دے، رہ گئی دوسری وہ خطائیں جن میں شریعت نے کوئی حد مقرر نہیں کی ہے جیسا کہ خائن، لٹیرے، ڈاکو اور اچکے پر خاص حد نہیں ہے تو یہ حاکم کی رائے پر منحصر ہے، اگر حاکم اس میں تعزیراً سزا دینا چاہے تو دس کوڑے سے زیادہ جتنا چاہے حتیٰ کہ قتل تک سزا دے سکتا ہے، رہ گئی زیر نظر حدیث تو اس میں اور یہ ایسے تادیبی امور ہیں جن کا تعلق معصیت سے نہیں ہے، مثلاً والد کا اپنی چھوٹی اولاد کو بطور تأدیب سزا دینا۔
۲؎: ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس حدیث میں حدود سے مراد ایسے حقوق ہیں جن کا تعلق اوامر الٰہی اور منہیات الٰہی سے ہے، چنانچہ «ومن يتعد حدود الله فأولئك هم الظالمون» (البقرة: ۲۲۹) اسی طرح «تلك حدود الله فلا تقربوها» (البقرة: ۱۸۷) میں حدود کا یہی مفہوم ہے۔ اگر بات شریعت کے اوامر و نواہی کی ہو تو حاکم کو مناسب سزاؤں کے اختیار کی اجازت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (2601)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الحدود 42 (6848)، صحیح مسلم/الحدود 9 (1708)، سنن ابی داود/ الحدود 39 (4491)، سنن ابن ماجہ/الحدود 32 (2601)، (تحفة الأشراف: 11720)، و مسند احمد (3/466)، سنن الدارمی/الحدود 11 (2360) (صحیح)
جامع الترمذي • حدیث #1463
1461 1462 1463 1464 1465
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ