📖 جامع الترمذي • فہرست کتب (Book Index) ↗

جامع الترمذي

Jami at-Tirmidhi (جَامِعُ التِّرْمِذِيِّ)
📁 کتاب: حدود و تعزیرات سے متعلق احکام و مسائل (كتاب الحدود عن رسول الله صلى الله عليه وسلم) 🏷️ باب: باب: دوسرے کو مخنث (ہجڑا) کہنے والے کے حکم کا بیان۔
عربی:
اردو:
جامع الترمذي حدیث نمبر: 1462 Jami at-Tirmidhi 1462
کتاب #18: کتاب: حدود و تعزیرات سے متعلق احکام و مسائل
29: باب مَا جَاءَ فِيمَنْ يَقُولُ لآخَرَ يَا مُخَنَّثُ
باب: دوسرے کو مخنث (ہجڑا) کہنے والے کے حکم کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ , حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ , عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ , عَنْ عِكْرِمَةَ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ: يَا يَهُودِيُّ , فَاضْرِبُوهُ عِشْرِينَ , وَإِذَا قَالَ: يَا مُخَنَّثُ , فَاضْرِبُوهُ عِشْرِينَ , وَمَنْ وَقَعَ عَلَى ذَاتِ مَحْرَمٍ , فَاقْتُلُوهُ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ , وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيل يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ، وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ رَوَاهُ الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ , وَقُرَّةُ بْنُ إِيَاسٍ الْمُزَنِيُّ , أَنَّ رَجُلًا تَزَوَّجَ امْرَأَةَ أَبِيهِ , فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِهِ , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَصْحَابِنَا , قَالُوا: مَنْ أَتَى ذَاتَ مَحْرَمٍ وَهُوَ يَعْلَمُ فَعَلَيْهِ الْقَتْلُ , وقَالَ أَحْمَدُ: مَنْ تَزَوَّجَ أُمَّهُ قُتِلَ , وقَالَ إِسْحَاق: مَنْ وَقَعَ عَلَى ذَاتِ مَحْرَمٍ قُتِلَ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب کوئی آدمی دوسرے کو یہودی کہہ کر پکارے تو اسے بیس کوڑے لگاؤ ، اور جب مخنث ( ہجڑا ) کہہ کر پکارے تو اسے بیس کوڑے لگاؤ ، اور جو کسی محرم کے ساتھ زنا کرے اسے قتل کر دو “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- ہم اس حدیث کو صرف اسی سند سے جانتے ہیں ، ¤ ۲- ابراہیم بن اسماعیل بن علیہ حدیث کی روایت میں ضعیف ہیں ، ¤ ۳- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کئی سندوں سے مروی ہے ، ¤ ۴- براء بن عازب اور قرہ بن ایاس مزنی سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قتل کرنے کا حکم دیا ، ¤ ۵- ہمارے اصحاب ( محدثین ) کا اسی پر عمل ہے ، یہ لوگ کہتے ہیں : جو جانتے ہوئے کسی محرم کے ساتھ زنا کرے تو اس پر قتل واجب ہے ، ¤ ۶- ( امام ) احمد کہتے ہیں : جو اپنی ماں سے نکاح کرے گا اسے قتل کیا جائے گا ، ¤ ۷- اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں : جو کسی محرم کے ساتھ زنا کرے اسے قتل کیا جائے گا ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1462]
قال الشيخ الألباني: ضعيف، المشكاة (3632 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (610) //
قال الشيخ زبیر علی زئی: (1462) إسناده ضعيف /جه 2564،2568 ¤ إبراھيم بن إسماعيل بن أبى حبيبة:ضعيف (تق: 146) وقال الھيثمي: وضعفه الجمھور (مجمع الزوائد 316/5) و داود بن حصين عن عكرمة: ضعيف (تقدم:145) وقال أبو بردة بن نيار: عم البراء رضى الله عنه: بعثني رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى رجل نكح امرأة أبيه فأمرني أن أضرب عنقه و آخذ ماله . رواه أبو داود (4457) وسنده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/الحدود 15 (2568)، (تحفة الأشراف: 6075) (ضعیف) (سند میں ”ابراہیم بن اسماعیل“ ضعیف راوی ہیں)
جامع الترمذي • حدیث #1462
1460 1461 1462 1463 1464
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ