جامع الترمذي حدیث نمبر: 1455
Jami at-Tirmidhi 1455
کتاب #18: کتاب: حدود و تعزیرات سے متعلق احکام و مسائل
23: باب مَا جَاءَ فِيمَنْ يَقَعُ عَلَى الْبَهِيمَةِ
باب: جانور سے وطی (جماع) کرنے والے کا بیان۔
وَقَدْ رَوَى سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ , عَنْ عَاصِمٍ , عَنْ أَبِي رُزَيْنٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ أَتَى بَهِيمَةً فَلَا حَدَّ عَلَيْهِ " , حَدَّثَنَا بِذَلِكَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ , وَهَذَا أَصَحُّ مِنَ الْحَدِيثِ الْأَوَّلِ , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ , وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ , وَإِسْحَاق.
اور سفیان ثوری نے بطریق : «عاصم عن أبي رزين عن ابن عباس» ( موقوفاً عليه ) روایت کی ہے ، وہ کہتے ہیں : جانور سے «وطی» ( جماع ) کرنے والے پر کوئی حد نہیں ہے ۔ ہم سے اس حدیث کو محمد بن بشار نے بسند «عبدالرحمٰن بن مهدي حدثنا سفيان الثوري» بیان کیا اور یہ ۱؎ پہلی حدیث سے زیادہ صحیح ہے ، ¤ ۲- اہل علم کا اسی پر عمل ہے ۲؎ ، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1455M]
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح، ابن ماجة (2564)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ مالمؤلف و انظر ما قبلہ (تحفة الأشراف: 6454) (حسن)