📖 جامع الترمذي • فہرست کتب (Book Index) ↗

جامع الترمذي

Jami at-Tirmidhi (جَامِعُ التِّرْمِذِيِّ)
📁 کتاب: حدود و تعزیرات سے متعلق احکام و مسائل (كتاب الحدود عن رسول الله صلى الله عليه وسلم) 🏷️ باب: باب: زنا پر مجبور کی گئی عورت کے حکم کا بیان۔
عربی:
اردو:
جامع الترمذي حدیث نمبر: 1453 Jami at-Tirmidhi 1453
کتاب #18: کتاب: حدود و تعزیرات سے متعلق احکام و مسائل
22: باب مَا جَاءَ فِي الْمَرْأَةِ إِذَا اسْتُكْرِهَتْ عَلَى الزِّنَا
باب: زنا پر مجبور کی گئی عورت کے حکم کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ , حَدَّثَنَا مُعَمَّرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّقِّيُّ , عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ , عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: " اسْتُكْرِهَتِ امْرَأَةٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَدَرَأَ عَنْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَدَّ , وَأَقَامَهُ عَلَى الَّذِي أَصَابَهَا , وَلَمْ يُذْكَرْ أَنَّهُ جَعَلَ لَهَا مَهْرًا " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ , وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِمُتَّصِلٍ , وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ , قَالَ: سَمِعْت مُحَمَّدًا , يَقُولُ: عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ , لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ , وَلَا أَدْرَكَهُ , يُقَالُ: إِنَّهُ وُلِدَ بَعْدَ مَوْتِ أَبِيهِ بِأَشْهُرٍ , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ , أَنْ لَيْسَ عَلَى الْمُسْتَكْرَهَةِ حَدٌّ.
وائل بن حجر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک عورت کے ساتھ زبردستی زنا کیا گیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حد سے بری کر دیا اور زانی پر حد جاری کی ، راوی نے اس کا ذکر نہیں کیا کہ آپ نے اسے کچھ مہر بھی دلایا ہو ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث غریب ہے ، اس کی اسناد متصل نہیں ہے ، ¤ ۲- یہ حدیث دوسری سند سے بھی آئی ہے ، ¤ ۳- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے ہوئے سنا : عبدالجبار بن وائل بن حجر کا سماع ان کے باپ سے ثابت نہیں ہے ، انہوں نے اپنے والد کا زمانہ نہیں پایا ہے ، کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے والد کی موت کے کچھ مہینے بعد پیدا ہوئے ، ¤ ۳- صحابہ کرام میں سے بعض اہل علم اور کچھ دوسرے لوگوں کا اسی پر عمل ہے کہ جس سے جبراً زنا کیا گیا ہو اس پر حد واجب نہیں ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1453]
💡 وضاحت:
۱؎: لیکن دوسری احادیث سے یہ ثابت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جماع کے بدلے اس عورت کو کچھ دلایا بھی ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف، المشكاة (3571)
قال الشيخ زبیر علی زئی: (1453) إسناده ضعيف /جه 2598 ¤ السند منقطع، انظر ضعيف سنن أبى داود (724) وحجاج بن أرطاة ضعيف (تقدم:527)
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/الحدود 30 (2598) (ضعیف) (نہ تو ”حجاج بن ارطاة“ نے ”عبدالجبار“ سے سنا ہے، نہ ہی ”عبدالجبار“ نے اپنے باپ سے سنا ہے، یعنی سند میں دو جگہ انقطاع ہے، لیکن یہ مسئلہ اگلی حدیث سے ثابت ہے)
جامع الترمذي • حدیث #1453
1451 1452 1453 1454 1455

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#1454 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى النَّيْسَابُورِيُّ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ , عَنْ إِسْ...
وائل بن حجر کندی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک عورت نماز...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ