جامع الترمذي حدیث نمبر: 1452
Jami at-Tirmidhi 1452
کتاب #18: کتاب: حدود و تعزیرات سے متعلق احکام و مسائل
21: باب مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يَقَعُ عَلَى جَارِيَةِ امْرَأَتِهِ
باب: بیوی کی لونڈی کے ساتھ زنا کرنے والے کے حکم کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ , حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ , عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ , عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ نَحْوَهُ، قَالَ: وَفِي الْبَاب , عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبَّقِ , قَالَ: أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ النُّعْمَانِ فِي إِسْنَادِهِ اضْطِرَابٌ , قَالَ: سَمِعْت مُحَمَّدًا , يَقُولُ: لَمْ يَسْمَعْ قَتَادَةُ مِنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ هَذَا الْحَدِيثَ , إِنَّمَا رَوَاهُ عَنْ خَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ , وَيُرْوَى عَنْ قَتَادَةَ , أَنَّهُ قَالَ: كُتِبَ بِهِ إِلَى حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ , وَأَبُو بِشْرٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ هَذَا أَيْضًا , إنما قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ , فِي الرَّجُلِ يَقَعُ عَلَى جَارِيَةِ امْرَأَتِهِ , فَرُوِيَ عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , مِنْهُمْ عَلِيٌّ , وَابْنُ عُمَرَ , أَنَّ عَلَيْهِ الرَّجْمَ , وقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: لَيْسَ عَلَيْهِ حَدٌّ , وَلَكِنْ يُعَزَّرُ , وَذَهَبَ أَحْمَدُ , وَإِسْحَاق , إِلَى مَا رَوَى النُّعْمَانُ بْنُ بَشِيرٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
اس سند سے بھی نعمان بن بشیر سے اسی جیسی حدیث آئی ہے ۔ قتادہ کہتے ہیں کہ انہوں نے کہا : حبیب بن سالم کے پاس یہ مسئلہ لکھ کر بھیجا گیا ۱؎ ۔ ابوبشر نے بھی یہ حدیث حبیب بن سالم سے نہیں سنی ، انہوں نے اسے خالد بن عرفطہٰ سے روایت کیا ہے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- نعمان کی حدیث کی سند میں اضطراب ہے میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ قتادہ نے اس حدیث کو حبیب بن سالم سے نہیں سنا ہے ، انہوں نے اسے خالد بن عرفطہٰ سے روایت کیا ہے ، ¤ ۲- اس باب میں سلمہ بن محبق سے بھی روایت ہے ، ¤ ۳- بیوی کی لونڈی کے ساتھ زنا کرنے والے کے سلسلے میں اہل علم کا اختلاف ہے ، چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کئی صحابہ سے مروی ہے جن میں علی اور ابن عمر بھی شامل ہیں کہ اس پر رجم واجب ہے ، ابن مسعود کہتے ہیں : اس پر کوئی حد نہیں ہے ، البتہ اس کی تادیبی سزا ہو گی ، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا مسلک اس ( حدیث ) کے مطابق ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بواسطہ نعمان بن بشیر آئی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1452]
💡 وضاحت:
۱؎: گویا قتادہ نے یہ حدیث حبیب بن سالم سے نہیں سنی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
**
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (ضعیف)