جامع الترمذي حدیث نمبر: 1441
Jami at-Tirmidhi 1441
کتاب #18: کتاب: حدود و تعزیرات سے متعلق احکام و مسائل
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ , حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ , عَنْ السُّدِّيِّ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ , عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، قَالَ: خَطَبَ عَلِيٌّ , فَقَالَ " يَا أَيُّهَا النَّاسُ , أَقِيمُوا الْحُدُودَ عَلَى أَرِقَّائِكُمْ مَنْ أَحْصَنَ مِنْهُمْ , وَمَنْ لَمْ يُحْصِنْ , وَإِنَّ أَمَةً لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَنَتْ , فَأَمَرَنِي أَنْ أَجْلِدَهَا , فَأَتَيْتُهَا فَإِذَا هِيَ حَدِيثَةُ عَهْدٍ بِنِفَاسٍ , فَخَشِيتُ إِنْ أَنَا جَلَدْتُهَا أَنْ أَقْتُلَهَا , أَوْ قَالَ: تَمُوتَ , فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ , فَقَالَ: " أَحْسَنْتَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , وَالسُّدِّيُّ اسْمُهُ: إِسْمَاعِيل بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَهُوَ مِنَ التَّابِعِينَ , قَدْ سَمِعَ مِنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , وَرَأَى حُسَيْنَ بْنَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.
ابوعبدالرحمٰن سلمی کہتے ہیں کہ علی رضی الله عنہ نے خطبہ کے دوران کہا : لوگو ! اپنے غلاموں اور لونڈیوں پر حد قائم کرو ، جس کی شادی ہوئی ہو اس پر بھی اور جس کی شادی نہ ہوئی ہو اس پر بھی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک لونڈی نے زنا کیا ، چنانچہ آپ نے مجھے کوڑے لگانے کا حکم دیا ، میں اس کے پاس آیا تو ( دیکھا ) اس کو کچھ ہی دن پہلے نفاس کا خون آیا تھا ۱؎ لہٰذا مجھے اندیشہ ہوا کہ اگر میں نے اسے کوڑے لگائے تو کہیں میں اسے قتل نہ کر بیٹھوں ، یا انہوں نے کہا : کہیں وہ مر نہ جائے ۲؎ ، چنانچہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور آپ سے اسے بیان کیا ، تو آپ نے فرمایا : ” تم نے اچھا کیا “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1441]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی کچھ ہی دن قبل اس سے ولادت ہوئی تھی۔
۲؎: یہ شک راوی کی طرف سے ہے۔
۲؎: یہ شک راوی کی طرف سے ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الإرواء (7 / 360)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الحدود 7 (1705)، (تحفة الأشراف: 10170) (صحیح)