📖 جامع الترمذي • فہرست کتب (Book Index) ↗

جامع الترمذي

Jami at-Tirmidhi (جَامِعُ التِّرْمِذِيِّ)
📁 کتاب: حدود و تعزیرات سے متعلق احکام و مسائل (كتاب الحدود عن رسول الله صلى الله عليه وسلم) 🏷️ باب: لونڈیوں پر حد جاری کرنے کا بیان۔
عربی:
اردو:
جامع الترمذي حدیث نمبر: 1441 Jami at-Tirmidhi 1441
کتاب #18: کتاب: حدود و تعزیرات سے متعلق احکام و مسائل
13: باب مَا جَاءَ فِي إِقَامَةِ الْحَدِّ عَلَى الإِمَاءِ
🏷️ باب: لونڈیوں پر حد جاری کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ , حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ , عَنْ السُّدِّيِّ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ , عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، قَالَ: خَطَبَ عَلِيٌّ , فَقَالَ " يَا أَيُّهَا النَّاسُ , أَقِيمُوا الْحُدُودَ عَلَى أَرِقَّائِكُمْ مَنْ أَحْصَنَ مِنْهُمْ , وَمَنْ لَمْ يُحْصِنْ , وَإِنَّ أَمَةً لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَنَتْ , فَأَمَرَنِي أَنْ أَجْلِدَهَا , فَأَتَيْتُهَا فَإِذَا هِيَ حَدِيثَةُ عَهْدٍ بِنِفَاسٍ , فَخَشِيتُ إِنْ أَنَا جَلَدْتُهَا أَنْ أَقْتُلَهَا , أَوْ قَالَ: تَمُوتَ , فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ , فَقَالَ: " أَحْسَنْتَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , وَالسُّدِّيُّ اسْمُهُ: إِسْمَاعِيل بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَهُوَ مِنَ التَّابِعِينَ , قَدْ سَمِعَ مِنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , وَرَأَى حُسَيْنَ بْنَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.
ابوعبدالرحمٰن سلمی کہتے ہیں کہ علی رضی الله عنہ نے خطبہ کے دوران کہا : لوگو ! اپنے غلاموں اور لونڈیوں پر حد قائم کرو ، جس کی شادی ہوئی ہو اس پر بھی اور جس کی شادی نہ ہوئی ہو اس پر بھی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک لونڈی نے زنا کیا ، چنانچہ آپ نے مجھے کوڑے لگانے کا حکم دیا ، میں اس کے پاس آیا تو ( دیکھا ) اس کو کچھ ہی دن پہلے نفاس کا خون آیا تھا ۱؎ لہٰذا مجھے اندیشہ ہوا کہ اگر میں نے اسے کوڑے لگائے تو کہیں میں اسے قتل نہ کر بیٹھوں ، یا انہوں نے کہا : کہیں وہ مر نہ جائے ۲؎ ، چنانچہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور آپ سے اسے بیان کیا ، تو آپ نے فرمایا : ” تم نے اچھا کیا “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1441]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی کچھ ہی دن قبل اس سے ولادت ہوئی تھی۔
۲؎: یہ شک راوی کی طرف سے ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، الإرواء (7 / 360)
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الحدود 7 (1705)، (تحفة الأشراف: 10170) (صحیح)
جامع الترمذي • حدیث #1441
1439 1440 1441 1442 1443

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#1440 حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، ع...
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کسی کی لون...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ