جامع الترمذي حدیث نمبر: 1354
Jami at-Tirmidhi 1354
کتاب #16: کتاب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے احکامات اور فیصلے
19: باب مَا جَاءَ أَنَّ الْيَمِينَ عَلَى مَا يُصَدِّقُهُ صَاحِبُهُ
باب: قسم اسی چیز پر واقع ہو گی جس پر مدعی قسم لے رہا ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ , وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ الْمَعْنَى وَاحِدٌ , قَالَا: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْيَمِينُ عَلَى مَا يُصَدِّقُكَ بِهِ صَاحِبُكَ " , وقَالَ قُتَيْبَةُ: " عَلَى مَا صَدَّقَكَ عَلَيْهِ صَاحِبُكَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ , لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ هُشَيْمٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ , وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي صَالِحٍ: هُوَ أَخُو سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ , وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ , وَإِسْحَاق , وَرُوِيَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ , أَنَّهُ قَالَ: إِذَا كَانَ الْمُسْتَحْلِفُ ظَالِمًا , فَالنِّيَّةُ نِيَّةُ الْحَالِفِ , وَإِذَا كَانَ الْمُسْتَحْلِفُ مَظْلُومًا , فَالنِّيَّةُ نِيَّةُ الَّذِي اسْتَحْلَفَ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قسم اسی چیز پر واقع ہو گی جس پر تمہارا ساتھی ( فریق مخالف ) قسم لے رہا ہے “ ( توریہ کا اعتبار نہیں ہو گا ) ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ¤ ۲- ہم اسے ہشیم ہی کی روایت سے جانتے ہیں جسے انہوں نے عبداللہ بن ابی صالح سے روایت کی ہے ۔ اور عبداللہ بن ابی صالح ، سہیل بن ابی صالح کے بھائی ہیں ، ¤ ۳- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے ، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی اسی کے قائل ہیں ، ¤ ۴- ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ جب قسم لینے والا ظالم ہو تو قسم کھانے والے کی نیت کا اعتبار ہو گا ، اور جب قسم لینے والا مظلوم ہو تو قسم لینے والے کی نیت کا اعتبار ہو گا ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1354]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (2121)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الأیمان والنذور 4 (1653)، سنن ابی داود/ الأیمان والنذور 8 (3255)، سنن ابن ماجہ/الکفارات 14 (2120)، (تحفة الأشراف: 12826)، و مسند احمد (2/228)، و سنن الدارمی/النذور 11 (2394) (صحیح)