جامع الترمذي حدیث نمبر: 1353
Jami at-Tirmidhi 1353
کتاب #16: کتاب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے احکامات اور فیصلے
18: باب مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يَضَعُ عَلَى حَائِطِ جَارِهِ خَشَبًا
باب: پڑوسی کی دیوار پر لکڑی رکھنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا اسْتَأْذَنَ أَحَدَكُمْ جَارُهُ أَنْ يَغْرِزَ خَشَبَهُ فِي جِدَارِهِ , فَلَا يَمْنَعْهُ ". فَلَمَّا حَدَّثَ أَبُو هُرَيْرَةَ , طَأْطَئُوا رُءُوسَهُمْ , فَقَالَ: مَا لِي أَرَاكُمْ عَنْهَا مُعْرِضِينَ , وَاللَّهِ لَأَرْمِيَنَّ بِهَا بَيْنَ أَكْتَافِكُمْ , قَالَ: وَفِي الْبَاب , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , وَمُجَمِّعِ بْنِ جَارِيَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ , وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ , وَرُوِيَ عَنْ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ , مِنْهُمْ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ , قَالُوا لَهُ: أَنْ يَمْنَعَ جَارَهُ أَنْ يَضَعَ خَشَبَهُ فِي جِدَارِهِ , وَالْقَوْلُ الْأَوَّلُ أَصَحُّ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” جب تم میں سے کسی کا پڑوسی اس کی دیوار میں لکڑی گاڑنے کی اس سے اجازت طلب کرے تو وہ اسے نہ روکے “ ۔ ابوہریرہ رضی الله عنہ نے جب یہ حدیث بیان کی تو لوگوں نے اپنے سر جھکا لیے تو انہوں نے کہا : کیا بات ہے ، میں دیکھ رہا ہوں کہ تم لوگ اس سے اعراض کر رہے ہو ؟ اللہ کی قسم میں اسے تمہارے شانوں پر مار کر ہی رہوں گا یعنی تم سے اسے بیان کر کے ہی رہوں گا ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں ابن عباس اور مجمع بن جاریہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، ¤ ۳- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے ۔ شافعی بھی اسی کے قائل ہیں ، ¤ ۴- بعض اہل علم سے مروی ہے : جن میں مالک بن انس بھی شامل ہیں کہ اس کے لیے درست ہے کہ اپنے پڑوسی کو دیوار میں لکڑی گاڑنے سے منع کر دے ، پہلا قول زیادہ صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1353]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (2335)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/المظالم 20 (2463)، صحیح مسلم/المساقاة 29 (البیوع 50)، (1609)، سنن ابی داود/ الأقضیة 31 (3634)، سنن ابن ماجہ/الأحکام 15 (2335)، (تحفة الأشراف: 13954)، وط/الأقضیة 26 (32)، و مسند احمد (2/396) (صحیح)