جامع الترمذي حدیث نمبر: 1356
Jami at-Tirmidhi 1356
کتاب #16: کتاب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے احکامات اور فیصلے
20: باب مَا جَاءَ فِي الطَّرِيقِ إِذَا اخْتُلِفَ فِيهِ كَمْ يُجْعَلُ
باب: راستے کے سلسلہ میں جب اختلاف ہو تو اسے کتنا چھوڑا جائے؟
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ بُشَيْرِ بْنِ كَعْبٍ الْعَدَوِيِّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا تَشَاجَرْتُمْ فِي الطَّرِيقِ , فَاجْعَلُوهُ سَبْعَةَ أَذْرُعٍ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ وَكِيعٍ. قَالَ: وَفِي الْبَاب , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ بُشَيْرِ بْنِ كَعْبٍ الْعَدَوِيِّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , وَرَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , وَهُوَ غَيْرُ مَحْفُوظٍ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب راستے کے سلسلے میں تم میں اختلاف ہو تو اسے سات ہاتھ ( چوڑا ) رکھو “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ ( سابقہ ) وکیع کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے ، ¤ ۲- بشیر بن کعب کی حدیث جسے انہوں نے ابوہریرہ سے روایت کی ہے حسن صحیح ہے ، اور بعض نے اسے قتادہ سے اور قتادہ نے بشیر بن نہیک سے اور بشیر نے ابوہریرہ سے روایت کی ہے اور یہ غیر محفوظ ہے ، ¤ ۳- اس باب میں ابن عباس سے بھی روایت ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1356]
💡 وضاحت:
۱؎: سات ہاتھ راستہ آدمیوں اور جانوروں کے آنے جانے کے لیے کافی ہے، جسے دونوں فریق کو مل کر چھوڑنا چاہیئے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/المظالم 29 (2473)، صحیح مسلم/المساقاة 31 (البیوع 52)، (1613)، سنن ابی داود/ الأقضیة 31 (3633)، سنن ابن ماجہ/الأحکام 16 (2338)، (تحفة الأشراف: 12223)، و مسند احمد (2/466) (صحیح)