جامع الترمذي حدیث نمبر: 1273
Jami at-Tirmidhi 1273
کتاب #15: کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل
45: باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ عَسْبِ الْفَحْلِ
باب: نر کو مادہ پر چھوڑنے کی اجرت لینے کی کراہت کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَأَبُو عَمَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عُلَيَّةَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَكَمِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: " نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَسْبِ الْفَحْلِ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَنَسٍ، وَأَبِي سَعِيدٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَقَدْ رَخَّصَ بَعْضُهُمْ فِي قَبُولِ الْكَرَامَةِ عَلَى ذَلِكَ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نر کو مادہ پر چھوڑنے کی اجرت لینے سے منع فرمایا ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں ابوہریرہ ، انس اور ابوسعید رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، ¤ ۳- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے ۔ بعض علماء نے اس کام پر بخشش قبول کرنے کی اجازت دی ہے ، جمہور کے نزدیک یہ نہی تحریمی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1273]
💡 وضاحت:
۱؎: چونکہ مادہ کا حاملہ ہونا قطعی نہیں ہے، حمل قرار پانے اور نہ پانے دونوں کا شبہ ہے اسی لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اجرت لینے سے منع فرمایا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح أحاديث البيوع
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الإجارة 21 (2284)، سنن ابی داود/ البیوع 42 (3429)، سنن النسائی/البیوع 94 (4675)، (تحفة الأشراف: 8233)، و مسند احمد (2/4) (صحیح)