جامع الترمذي حدیث نمبر: 1272
Jami at-Tirmidhi 1272
کتاب #15: کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل
44: باب مَا جَاءَ فِي بَيْعِ فَضْلِ الْمَاءِ
باب: ضرورت سے زائد پانی کے بیچنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يُمْنَعُ فَضْلُ الْمَاءِ لِيُمْنَعَ بِهِ الْكَلَأُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو الْمِنْهَالِ اسْمُهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُطْعِمٍ كُوفِيٌّ، وَهُوَ الَّذِي رَوَى عَنْهُ حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، وَأَبُو الْمِنْهَالِ سَيَّارُ بْنُ سَلَامَةَ بَصْرِيٌّ، صَاحِبُ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ضرورت سے زائد پانی سے نہ روکا جائے کہ اس کے سبب گھاس سے روک دیا جائے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1272]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ سوچ کر دوسروں کے جانوروں کو فاضل پانی پلانے سے نہ روکا جائے کہ جب جانوروں کو پانی پلانے کو لوگ نہ پائیں گے تو جانور ادھر نہ لائیں گے، اس طرح گھاس ان کے جانوروں کے لیے بچی رہے گی، یہ کھلی ہوئی خود غرضی ہے جو اسلام کو پسند نہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (2478)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الشرب والمساقاة 2 (2353)، صحیح مسلم/البیوع 29 (المساقاة 8) (1566)، سنن ابی داود/ البیوع 62 (3473)، سنن ابن ماجہ/الأحکام 19 (2428)، (تحفة الأشراف: 1398)، وط/الأقضیة 25 (29) و مسند احمد (2/244، 273، 309)، 482، 494، 500) (صحیح)