📖 جامع الترمذي • فہرست کتب (Book Index) ↗

جامع الترمذي

Jami at-Tirmidhi (جَامِعُ التِّرْمِذِيِّ)
📁 کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل (كتاب البيوع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم) 🏷️ باب: باب: کتے کی قیمت کا بیان۔
عربی:
اردو:
جامع الترمذي حدیث نمبر: 1275 Jami at-Tirmidhi 1275
کتاب #15: کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل
46: باب مَا جَاءَ فِي ثَمَنِ الْكَلْبِ
باب: کتے کی قیمت کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَارِظٍ، عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " كَسْبُ الْحَجَّامِ خَبِيثٌ، وَمَهْرُ الْبَغِيِّ خَبِيثٌ، وَثَمَنُ الْكَلْبِ خَبِيثٌ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ عُمَرَ، وَعَلِيٍّ، وَابْنِ مَسْعُودٍ، وَأَبِي مَسْعُودٍ، وَجَابِرٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَابْنِ عُمَرَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ رَافِعٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ، كَرِهُوا ثَمَنَ الْكَلْبِ، وَهُوَ قَوْلُ: الشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وَقَدْ رَخَّصَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي ثَمَنِ كَلْبِ الصَّيْدِ.
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پچھنا لگانے والے کی کمائی خبیث ( گھٹیا ) ہے ۱؎ زانیہ کی اجرت ناپاک ۲؎ ہے اور کتے کی قیمت ناپاک ہے “ ۳؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- رافع رضی اللہ عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں عمر ، علی ، ابن مسعود ، ابومسعود ، جابر ، ابوہریرہ ، ابن عباس ، ابن عمر اور عبداللہ ابن جعفر رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، ¤ ۳- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے ۔ ان لوگوں نے کتے کی قیمت کو ناجائز جانا ہے ، یہی شافعی ، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے ۔ اور بعض اہل علم نے شکاری کتے کی قیمت کی اجازت دی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1275]
💡 وضاحت:
۱؎: «كسب الحجام خبيث» میں «خبيث» کا لفظ حرام ہونے کے مفہوم میں نہیں ہے بلکہ گھٹیا اور غیرشریفانہ ہونے کے معنی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محیصہ رضی اللہ عنہ کو یہ حکم دیا کہ پچھنا لگانے کی اجرت سے اپنے اونٹ اور غلام کو فائدہ پہنچاؤ، نیز آپ نے خود پچھنا لگوایا اور لگانے والے کو اس کی اجرت بھی دی، لہذا پچھنا لگانے والے کی کمائی کے متعلق خبیث کا لفظ ایسے ہی ہے جیسے آپ نے لہسن اور پیاز کو خبیث کہا باوجود یہ کہ ان دونوں کااستعمال حرام نہیں ہے، اسی طرح حجام کی کمائی بھی حرام نہیں ہے یہ اور بات ہے کہ غیرشریفانہ ہے۔ یہاں «خبيث» بمعنی حرام ہے۔ ۲؎: چونکہ زنا فحش امور اور کبیرہ گناہوں میں سے ہے اس لیے اس سے حاصل ہونے والی اجرت بھی ناپاک اور حرام ہے اس میں کوئی فرق نہیں کہ زانیہ لونڈی ہو یا آزاد ہو۔ ۳؎: کتا چونکہ نجس اور ناپاک جانور ہے اس لیے اس سے حاصل ہونے والی قیمت بھی ناپاک ہو گی، اس کی نجاست کا حال یہ ہے کہ شریعت نے اس برتن کو جس میں کتا منہ ڈال دے سات مرتبہ دھونے کا حکم دیا ہے جس میں ایک مرتبہ مٹی سے دھونا بھی شامل ہے، اسی سبب کتے کی خرید و فروخت اور اس سے فائدہ اٹھانا منع ہے، الا یہ کہ کسی شدید ضرورت سے ہو مثلاً گھر جائداد اور جانوروں کی حفاظت کے لیے ہو۔ پھر بھی قیمت لینا گھٹیا کام ہے، ہدیہ کر دینا چاہیے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح أحاديث البيوع
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المساقاة 9 (البیوع 30)، (1568)، سنن ابی داود/ البیوع 39 (3421)، سنن النسائی/الذبائح 15 (4299)، تحفة الأشراف: 3555)، و مسند احمد (3/464، 465)، و 4/141) (صحیح)
جامع الترمذي • حدیث #1275
1273 1274 1275 1276 1277

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#1276 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ. ح وحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ ا...
ابومسعود انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت ، زانیہ کی کمائ...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ