📖 جامع الترمذي • فہرست کتب (Book Index) ↗

جامع الترمذي

Jami at-Tirmidhi (جَامِعُ التِّرْمِذِيِّ)
📁 کتاب: طلاق اور لعان کے احکام و مسائل (كتاب الطلاق واللعان عن رسول الله صلى الله عليه وسلم) 🏷️ باب: باب: ظہار کرنے والے کا بیان جو کفارہ کی ادائیگی سے پہلے جماع کر بیٹھے۔
عربی:
اردو:
جامع الترمذي حدیث نمبر: 1198 Jami at-Tirmidhi 1198
کتاب #14: کتاب: طلاق اور لعان کے احکام و مسائل
19: باب مَا جَاءَ فِي الْمُظَاهِرِ يُوَاقِعُ قَبْلَ أَنْ يُكَفِّرَ
باب: ظہار کرنے والے کا بیان جو کفارہ کی ادائیگی سے پہلے جماع کر بیٹھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ صَخْرٍ الْبَيَاضِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمُظَاهِرِ يُوَاقِعُ قَبْلَ أَنْ يُكَفِّرَ، قَالَ: " كَفَّارَةٌ وَاحِدَةٌ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَهُوَ قَوْلُ: سُفْيَانَ، وَمَالِكٍ، وَالشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وقَالَ بَعْضُهُمْ: إِذَا وَاقَعَهَا قَبْلَ أَنْ يُكَفِّرَ، فَعَلَيْهِ كَفَّارَتَانِ وَهُوَ قَوْلُ: عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ.
سلمہ بن صخر بیاضی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ظہار ۱؎ کرنے والے کے بارے میں جو کفارہ کی ادائیگی سے پہلے مجامعت کر لیتا ہے فرمایا : ” اس کے اوپر ایک ہی کفارہ ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ¤ ۲- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے ۔ سفیان ، شافعی ، مالک ، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے ، ¤ ۳- اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر کفارہ ادا کرنے سے پہلے جماع کر بیٹھے تو اس پر دو کفارہ ہے ۔ یہ عبدالرحمٰن بن مہدی کا قول ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1198]
💡 وضاحت:
۱؎: ظہار کا مطلب بیوی سے «أنت علي کظہرامي» (تو مجھ پر میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہے) کہنا ہے، زمانہ جاہلیت میں ظہار کو طلاق سمجھا جاتا تھا، امت محمدیہ میں ایسا کہنے والے پر صرف کفارہ لازم آتا ہے، اور وہ یہ ہے کہ ایک غلام آزاد کرے، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو پے در پے بلا ناغہ دو مہینے کے روزے رکھے اگر درمیان میں بغیر عذر شرعی کے روزہ چھوڑ دیا تو نئے سرے سے پورے دو مہینے کے روزے رکھنے پڑیں گے، عذر شرعی سے مراد بیماری یا سفر ہے، اور اگر پے در پے دو مہینہ کے روزے رکھنے کی طاقت نہ ہو تو ساٹھ مسکین کو کھانا کھلائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (2064)
قال الشيخ زبیر علی زئی: (1198) إسناده ضعيف / جه 2064 ¤ قال البخاري: ”سليمان (بن يسار) لم يسمع عندي من سلمة (بن صخر)“ (سنن الترمذي: 3299) والحديث الآتي (الأصل: 1200) يغني عنه
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/ الطلاق 17 (2213)، سنن ابن ماجہ/الطلاق 25 (2062)، (تحفة الأشراف: 4555)، مسند احمد (5/436)، سنن الدارمی/الطلاق 9 (2319) (صحیح)
جامع الترمذي • حدیث #1198
1196 1197 1198 1199 1200

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#1199 حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ مَعْمَرٍ...
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا ، اس...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ