جامع الترمذي حدیث نمبر: 1196
Jami at-Tirmidhi 1196
کتاب #14: کتاب: طلاق اور لعان کے احکام و مسائل
18: باب مَا جَاءَ فِي عِدَّةِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا
باب: شوہر کی موت پر عورت کی عدت کا بیان۔
قَالَتْ قَالَتْ زَيْنَبُ: فَدَخَلْتُ عَلَى زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، حِينَ تُوُفِّيَ أَخُوهَا، فَدَعَتْ بِطِيبٍ فَمَسَّتْ مِنْهُ، ثُمّ قَالَتْ: وَاللَّهِ مَا لِي فِي الطِّيبِ مِنْ حَاجَةٍ غَيْرَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ".
( دوسری حدیث یہ ہے ) زینب کہتی ہیں : پھر میں زینب بنت جحش رضی الله عنہا کے پاس آئی جس وقت ان کے بھائی کا انتقال ہوا تو انہوں نے خوشبو منگائی اور اس میں سے لگایا پھر کہا : اللہ کی قسم ! مجھے خوشبو کی ضرورت نہیں تھی ، لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” اللہ اور آخرت پر ایمان رکھنے والی عورت کے لیے جائز نہیں ہے کہ کسی میت پر تین رات سے زیادہ سوگ کرے سوائے اپنے شوہر کے ، وہ اس پر چار ماہ دس دن سوگ کرے گی “ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1196]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الإرواء (2114)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (تحفة الأشراف: 15879) (صحیح)