📖 جامع الترمذي • فہرست کتب (Book Index) ↗

جامع الترمذي

Jami at-Tirmidhi (جَامِعُ التِّرْمِذِيِّ)
📁 کتاب: طلاق اور لعان کے احکام و مسائل (كتاب الطلاق واللعان عن رسول الله صلى الله عليه وسلم) 🏷️ باب: باب: شوہر کی موت پر عورت کی عدت کا بیان۔
عربی:
اردو:
جامع الترمذي حدیث نمبر: 1197 Jami at-Tirmidhi 1197
کتاب #14: کتاب: طلاق اور لعان کے احکام و مسائل
18: باب مَا جَاءَ فِي عِدَّةِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا
باب: شوہر کی موت پر عورت کی عدت کا بیان۔
قَالَتْ قَالَتْ زَيْنَبُ، وَسَمِعْتُ أُمِّي أُمَّ سَلَمَةَ، تَقُولُ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ ابْنَتِي تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا، وَقَدِ اشْتَكَتْ عَيْنَيْهَا أَفَنَكْحَلُهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا " مَرَّتَيْنِ، أَوْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، كُلُّ ذَلِكَ يَقُولُ: " لَا ". ثُمَّ قَالَ: " إِنَّمَا هِيَ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، وَقَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ فِي الْجَاهِلِيَّةِ تَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عَلَى رَأْسِ الْحَوْلِ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ فُرَيْعَةَ بِنْتِ مَالِكٍ أُخْتِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَحَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ زَيْنَبَ، حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، أَنَّ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا، تَتَّقِي فِي عِدَّتِهَا الطِّيبَ، وَالزِّينَةَ، وَهُوَ قَوْلُ: سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، وَالشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق.
( تیسری حدیث یہ ہے ) زینب کہتی ہیں : میں نے اپنی ماں ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت نے آ کر عرض کیا : اللہ کے رسول ! میری بیٹی کا شوہر مر گیا ہے ، اور اس کی آنکھیں دکھ رہی ہیں ، کیا ہم اس کو سرمہ لگا دیں ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں “ ۔ دو یا تین مرتبہ اس عورت نے آپ سے پوچھا اور آپ نے ہر بار فرمایا : ” نہیں “ ، پھر آپ نے فرمایا : ” ( اب تو اسلام میں ) عدت چار ماہ دس دن ہے ، حالانکہ جاہلیت میں تم میں سے ( فوت شدہ شوہر والی بیوہ ) عورت سال بھر کے بعد اونٹ کی مینگنی پھینکتی تھی “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- زینب کی حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں ابو سعید خدری کی بہن فریعہ بنت مالک ، اور حفصہ بنت عمر رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں ، ¤ ۳- صحابہ کرام وغیرہم کا اسی پر عمل ہے کہ جس عورت کا شوہر مر گیا ہو وہ اپنی عدت کے دوران خوشبو اور زینت سے پرہیز کرے گی ۔ سفیان ثوری ، مالک بن انس ، شافعی ، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1197]
💡 وضاحت:
۱؎: سال بھرکے بعد اونٹ کی مینگنی پھینکنے کا مطلب یہ ہے کہ زمانہ جاہلیت میں عورت کا شوہر جب انتقال کر جاتا تو وہ ایک معمولی جھونپڑی میں جا رہتی اور خراب سے خراب کپڑا پہن لیتی تھی اور سال پورا ہونے تک نہ خوشبو استعمال کرتی اور نہ ہی کسی اور چیز کو ہاتھ لگاتی پھر کوئی جانور، گدھا، بکری، یا پرندہ اس کے پاس لایا جاتا اور وہ اس سے اپنے جسم اور اپنی شرمگاہ کو رگڑتی اور جس جانور سے وہ رگڑتی عام طور سے وہ مر ہی جاتا، پھر وہ اس تنگ و تاریک جگہ سے باہر آتی پھر اسے اونٹ کی مینگنی دی جاتی اور وہ اسے پھینک دیتی اس طرح گویا وہ اپنی نحوست دور کرتی اس کے بعد ہی اسے خوشبو وغیرہ استعمال کرنے اجازت ملتی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، الإرواء (2114)
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (تحفة الأشراف: 18259) (صحیح)
جامع الترمذي • حدیث #1197
1195 1196 1197 1198 1199

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#1195 حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى، أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَب...
حمید بن نافع سے روایت ہے کہ زینب بنت ابی سلمہ نے انہیں یہ تینوں حدیثیں بتائیں ( ان میں سے ایک یہ ہے ...
#1196 قَالَتْ قَالَتْ زَيْنَبُ: فَدَخَلْتُ عَلَى زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، حِينَ تُوُفِّيَ أَخُوهَا، فَدَعَت...
( دوسری حدیث یہ ہے ) زینب کہتی ہیں : پھر میں زینب بنت جحش رضی الله عنہا کے پاس آئی جس وقت ان کے بھا...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ