📖 جامع الترمذي • فہرست کتب (Book Index) ↗

جامع الترمذي

Jami at-Tirmidhi (جَامِعُ التِّرْمِذِيِّ)
📁 کتاب: طلاق اور لعان کے احکام و مسائل (كتاب الطلاق واللعان عن رسول الله صلى الله عليه وسلم) 🏷️ باب: باب: شوہر کی وفات کے بعد بچہ جننے والی عورت کی عدت کا بیان۔
عربی:
اردو:
جامع الترمذي حدیث نمبر: 1193 Jami at-Tirmidhi 1193
کتاب #14: کتاب: طلاق اور لعان کے احکام و مسائل
17: باب مَا جَاءَ فِي الْحَامِلِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا تَضَعُ
باب: شوہر کی وفات کے بعد بچہ جننے والی عورت کی عدت کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ نَحْوَهُ. وقَالَ وَفِي الْبَاب: عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي السَّنَابِلِ، حَدِيثٌ مَشْهُورٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَلَا نَعْرِفُ لِلْأَسْوَدِ سَمَاعًا مِنْ أَبِي السَّنَابِلِ، وسَمِعْت مُحَمَّدًا، يَقُولُ: لَا أَعْرِفُ أَنَّ أَبَا السَّنَابِلِ، عَاشَ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، أَنَّ الْحَامِلَ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا إِذَا وَضَعَتْ، فَقَدْ حَلَّ التَّزْوِيجُ لَهَا، وَإِنْ لَمْ تَكْنِ انْقَضَتْ عِدَّتُهَا وَهُوَ قَوْلُ: سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَالشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ: تَعْتَدُّ آخِرَ الْأَجَلَيْنِ وَالْقَوْلُ الْأَوَّلُ أَصَحُّ.
‏‏‏‏ امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- ابوسنابل کی حدیث مشہور اور اس سند سے غریب ہے ، ¤ ۲- ہم ابوسنابل سے اسود کا سماع نہیں جانتے ہیں ، ¤ ۳- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ مجھے نہیں معلوم کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ابوسنابل زندہ رہے یا نہیں ، ¤ ۴- اس باب میں ام سلمہ رضی الله عنہا سے بھی حدیث روایت ہے ، ¤ ۵- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ حاملہ عورت جس کا شوہر فوت ہو چکا ہو جب بچہ جن دے تو اس کے لیے شادی کرنا جائز ہے ، اگرچہ اس کی عدت پوری نہ ہوئی ہو ۔ سفیان ثوری ، شافعی ، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے ، ¤ ۶- اور صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کہتے ہیں کہ وضع حمل اور چار ماہ دس دن میں سے جو مدت بعد میں پوری ہو گی اس کے مطابق وہ عدت گزارے گی ، پہلا قول زیادہ صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1193M]
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (2027)
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
جامع الترمذي • حدیث #1193
1192 1192 1193 1193 1194

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#1194 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَار...
سلیمان بن یسار کہتے ہیں کہ ابوہریرہ ، ابن عباس اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن رضی الله عنہم نے آپس میں ا...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ