سنن النسائي حدیث نمبر: 611
Sunan an-Nasa'i 611
کتاب #9: کتاب: اوقات نماز کے احکام و مسائل
51: بَابُ : فَضْلِ الصَّلاَةِ لِمَوَاقِيتِهَا
باب: وقت پر نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْوَلِيدُ بْنُ الْعَيْزَارِ، قال: سَمِعْتُ أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَّ، يَقُولُ: حَدَّثَنَا صَاحِبُ وَأَشَارَ إِلَى دَارِ عَبْدِ اللَّهِ، هَذِهِ الدَّارِ قال: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى؟ قَالَ: " الصَّلَاةُ عَلَى وَقْتِهَا، وَبِرُّ الْوَالِدَيْنِ، وَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ کو کون سا عمل زیادہ محبوب ہے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وقت پر نماز پڑھنا ، والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا ، اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنا “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 611]
💡 وضاحت:
۱؎: مختلف احادیث میں مختلف اعمال کو افضل الاعمال (زیادہ بہتر) کہا گیا ہے، اس کی توجیہ بعض لوگوں نے اس طرح کی ہے کہ ان میں «مِن» پوشیدہ ہے یعنی من افضل الاعمال یعنی یہ کام زیادہ فضیلت والے عملوں میں سے ہے یا ان کی فضیلت میں مختلف اقوال، اوقات یا جگہوں کا اعتبار ملحوظ ہے، مثلاً کسی وقت اول وقت نماز پڑھنا افضل ہے، اور کسی وقت جہاد یا حج مبرور افضل ہے، یا مخاطب کے اعتبار سے اعمال کی افضیلت بتائی گئی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/المواقیت 5 (527)، الجھاد 1 (2782)، الأدب 1 (5970)، التوحید 48 (7534)، صحیح مسلم/الإیمان 36 (85)، سنن الترمذی/الصلاة 13 (173)، البر والصلة 2 (1898)، (تحفة الأشراف: 9232)، مسند احمد 1/409، 439، 442، 451، سنن الدارمی/الصلاة 24 (1261) (صحیح)