سنن النسائي حدیث نمبر: 610
Sunan an-Nasa'i 610
کتاب #9: کتاب: اوقات نماز کے احکام و مسائل
50: بَابُ : كَيْفَ الْجَمْعُ
باب: جمع بین الصلاتین کیسے کی جائے؟
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْدَفَهُ مِنْ عَرَفَةَ، فَلَمَّا أَتَى الشِّعْبَ نَزَلَ فَبَالَ وَلَمْ يَقُلْ أَهْرَاقَ الْمَاءَ، قَالَ: فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ مِنْ إِدَاوَةٍ، فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا خَفِيفًا، فَقُلْتُ لَهُ: الصَّلَاةَ، فَقَالَ: الصَّلَاةُ أَمَامَكَ" فَلَمَّا أَتَى الْمُزْدَلِفَةَ صَلَّى الْمَغْرِبَ، ثُمَّ نَزَعُوا رِحَالَهُمْ، ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ".
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ( انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفہ میں سواری پر پیچھے بٹھا لیا تھا ) تو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھاٹی پر آئے تو اترے ، اور پیشاب کیا ، ( انہوں نے لفظ «بَالَ» کہا «أهراق الماء» نہیں کہا ۱؎ ) تو میں نے برتن سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پانی ڈالا ، آپ نے ہلکا پھلکا وضو کیا ، میں نے آپ سے عرض کیا : نماز پڑھ لیجئیے ، تو آپ نے فرمایا : نماز تمہارے آگے ہے ، جب آپ مزدلفہ پہنچے تو مغرب پڑھی ، پھر لوگوں نے اپنی سواریوں سے کجاوے اتارے ، پھر آپ نے عشاء پڑھی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 610]
💡 وضاحت:
۱؎: ان دونوں لفظوں کے معنی ہیں ”پیشاب کیا“۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 97)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوضوء 35 (181)، الحج 95 (1672)، صحیح مسلم/الحج 47 (1280)، سنن ابی داود/المناسک 64 (1925)، مسند احمد 5/200، 202، 208، 210 (صحیح)