سنن النسائي حدیث نمبر: 609
Sunan an-Nasa'i 609
کتاب #9: کتاب: اوقات نماز کے احکام و مسائل
49: بَابُ : الْجَمْعِ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِالْمُزْدَلِفَةِ
باب: مزدلفہ میں مغرب و عشاء کو جمع کرنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قال: " مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ بَيْنَ صَلَاتَيْنِ إِلَّا بِجَمْعٍ وَصَلَّى الصُّبْحَ يَوْمَئِذٍ قَبْلَ وَقْتِهَا".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مزدلفہ کے علاوہ کسی جگہ جمع بین الصلاتین کرتے نہیں دیکھا ۱؎ ، آپ نے اس روز فجر ( اس کے عام ) وقت سے ۲؎ پہلے پڑھ لی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 609]
💡 وضاحت:
۱؎: عبداللہ بن مسعود کا نہ دیکھنا جمع بین الصلاتین کی نفی کو مستلزم نہیں، خصوصاً جب عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن عمر اور اکابر صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین سے جمع بین الصلاتین کی صحیح روایات منقول ہیں۔ ۲؎: یعنی فجر طلوع ہوتے ہی پڑھ لی جب کہ عام حالات میں طلوع فجر کے بعد کچھ انتظار کرتے تھے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الحج 99 (1682)، صحیح مسلم/الحج 48 (1289)، سنن ابی داود/المناسک 65 (1934)، (تحفة الأشراف: 9384)، مسند احمد 1/384، 426، 434، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 3013، 3030، 3041 مختصراً (صحیح)