سنن النسائي حدیث نمبر: 5609
Sunan an-Nasa'i 5609
کتاب #57: کتاب: مشروبات (پینے والی چیزوں) کے احکام و مسائل
24: بَابُ : تَفْسِيرِ الْبِتْعِ وَالْمِزْرِ
باب: بتع اور مزر کی شرح و تفسیر۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي الْجُوَيْرِيَةِ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ , وَسُئِلَ فَقِيلَ لَهُ: أَفْتِنَا فِي الْبَاذِقِ؟ فَقَالَ: " سَبَقَ مُحَمَّدٌ الْبَاذَقَ، وَمَا أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ".
ابوجویریہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو سنا ان سے مسئلہ پوچھا گیا اور کہا گیا : ہمیں بادہ ۱؎ کے بارے میں فتویٰ دیجئیے ۔ تو انہوں نے کہا : محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے زمانے میں بادہ نہیں تھا ، ( یا آپ نے اس کا حکم پہلے ہی فرما دیا ہے کہ ) جو بھی چیز نشہ لانے والی ہو وہ حرام ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5609]
💡 وضاحت:
۱؎: «باذق» فارسی کے لفظ «بادہ» کی تعریب ہے۔ اس کے معنی خمر اور شراب کے ہیں، شاعر کہتا ہے: ہیں رنگ جدا، دور نئے، کیف نرالے شیشہ وہی، بادہ وہی، پیمانہ وہی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الٔبشربة 10(5598)، (تحفة الأشراف: 5410)، ویأتي عند المؤلف برقم: 5690 (صحیح)