سنن النسائي حدیث نمبر: 5606
Sunan an-Nasa'i 5606
کتاب #57: کتاب: مشروبات (پینے والی چیزوں) کے احکام و مسائل
24: بَابُ : تَفْسِيرِ الْبِتْعِ وَالْمِزْرِ
باب: بتع اور مزر کی شرح و تفسیر۔
أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ الْأَجْلَحِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مُوسَى , عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ بِهَا أَشْرِبَةً فَمَا أَشْرَبُ وَمَا أَدَعُ، قَالَ: " وَمَا هِيَ؟" قُلْتُ: الْبِتْعُ , وَالْمِزْرُ، قَالَ: " وَمَا الْبِتْعُ , وَالْمِزْرُ؟"، قُلْتُ: أَمَّا الْبِتْعُ: فَنَبِيذُ الْعَسَلِ , وَأَمَّا الْمِزْرُ: فَنَبِيذُ الذُّرَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَشْرَبْ مُسْكِرًا , فَإِنِّي حَرَّمْتُ كُلَّ مُسْكِرٍ".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن بھیجا تو میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! وہاں مشروب بہت ہوتے ہیں ، تو میں کیا پیوں اور کیا نہ پیوں ؟ آپ نے فرمایا : ” وہ کیا کیا ہیں ؟ “ میں نے عرض کیا : «بتع» اور «مزر» ، آپ نے فرمایا : «بتع» اور «مزر» کیا ہوتا ہے ؟ میں نے عرض کیا : «بتع» تو شہد کا نبیذ ہے اور «مزر» مکئی کا نبیذ ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کوئی نشہ لانے والی چیز مت پیو ، اس لیے کہ میں نے ہر نشہ لانے والی چیز حرام کر دی ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5606]
قال الشيخ الألباني:
حسن الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 9142) (حسن الإسناد)