سنن النسائي حدیث نمبر: 515
Sunan an-Nasa'i 515
کتاب #9: کتاب: اوقات نماز کے احکام و مسائل
11: بَابُ : مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَتَيْنِ مِنَ الْعَصْرِ
باب: (سورج ڈوبنے سے پہلے) عصر کی دو رکعت پا لینے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قال: سَمِعْتُ مَعْمَرًا، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَتَيْنِ مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ أَوْ رَكْعَةً مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے سورج ڈوبنے سے پہلے عصر کی دو رکعت ۲؎ یا سورج نکلنے سے پہلے فجر کی ایک رکعت پالی تو اس نے ( نماز کا وقت ) پا لیا ۳؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 515]
💡 وضاحت:
۱؎: بعض نسخوں میں اس باب میں «ركعة» کا لفظ ہے۔ ۲؎: اکثر روایتوں میں ہے ایک رکعت پالی۔ ۳؎: یعنی اس کی یہ دونوں صلاتیں ادا سمجھی جائیں گی نہ کہ قضاء۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/المساجد 30 (608)، سنن ابی داود/الصلاة 5 (412)، مسند احمد 2/ 282، (تحفة الأشراف: 13576) (صحیح)