سنن النسائي حدیث نمبر: 5038
Sunan an-Nasa'i 5038
کتاب #52: کتاب: ایمان اور ارکان ایمان
أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا , وَعِنْدَهَا امْرَأَةٌ، فَقَالَ:" مَنْ هَذِهِ؟" , قَالَتْ: فُلَانَةُ لَا تَنَامُ تَذْكُرُ مِنْ صَلَاتِهَا، فَقَالَ:" مَهْ , عَلَيْكُمْ مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ فَوَاللَّهِ لَا يَمَلُّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى تَمَلُّوا , وَكَانَ أَحَبَّ الدِّينِ إِلَيْهِ مَا دَامَ عَلَيْهِ صَاحِبُهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے ، ان کے پاس ایک عورت تھی ، آپ نے فرمایا : ” یہ کون ہے ؟ “ کہا : فلانی ہے ، یہ سوتی نہیں ، اور وہ اس کی نماز کا تذکرہ کرنے لگیں ، آپ نے فرمایا : ” ایسا مت کرو ، تم اتنا ہی کرو جتنے کی تم میں سکت اور طاقت ہو ، اللہ کی قسم ! اللہ ( ثواب دینے سے ) نہیں تھکتا ، لیکن تم ( عمل کرتے کرتے ) تھک جاؤ گے اسے تو وہ دینی عمل سب سے زیادہ پسند ہے جسے آدمی پابندی سے کرے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5038]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 1643 (صحیح)