سنن النسائي حدیث نمبر: 5037
Sunan an-Nasa'i 5037
کتاب #52: کتاب: ایمان اور ارکان ایمان
28: بَابُ : الدِّينُ يُسْرٌ
باب: دین (اسلام) آسان ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ مَعْنِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ هَذَا الدِّينَ يُسْرٌ , وَلَنْ يُشَادَّ الدِّينَ أَحَدٌ إِلَّا غَلَبَهُ فَسَدِّدُوا، وَقَارِبُوا، وَأَبْشِرُوا، وَيَسِّرُوا، وَاسْتَعِينُوا بِالْغَدْوَةِ وَالرَّوْحَةِ وَشَيْءٍ مِنَ الدَّلْجَةِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ دین آسان ہے اور جو دین میں ( عملی طور پر ) سختی برتے گا تو دین اس پر غالب آ جائے گا ( اور اسے تھکا دے گا ) لہٰذا صحیح راستے پر چلو ( اگر مکمل طور سے عمل نہ کر سکو تو کم از کم ) دین سے قریب رہو ، لوگوں کو دین کے معاملے میں خوش رکھو ( نفرت نہ پیدا کرو ) انہیں آسانی دو اور صبح و شام اور کچھ رات گئے کی مدد سے اللہ کی عبادت کرو ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5037]
💡 وضاحت:
۱؎: ان اوقات سے مدد طلب کرنے کا مطلب ہے کہ ان میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الإیمان 29 (39)، الرقاق 18 (6463)، (تحفة الأشراف: 13069)، مسند احمد (2/514) (صحیح)