سنن النسائي حدیث نمبر: 4957
Sunan an-Nasa'i 4957
کتاب #51: کتاب: چور کا ہاتھ کاٹنے سے متعلق احکام و مسائل
10: بَابُ : ذِكْرِ اخْتِلاَفِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ عَمْرَةَ، فِي هَذَا الْحَدِيثِ
باب: اس حدیث میں عمرہ سے روایت کرنے میں ابوبکر بن محمد اور عبداللہ بن ابی بکر کے اختلاف کا ذکر۔
حَدَّثَنَا سَوَّارُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَوَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ. ح وَأَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا إِسْحَاق هُوَ الْأَزْرَقُ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِهِ عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَيْمَنَ مَوْلَى ابْنِ الزُّبَيْرِ، وَقَالَ خَالِدٌ فِي حَدِيثِهِ: مَوْلَى الزُّبَيْرِ، عَنْ تُبَيْعٍ، عَنْ كَعْبٍ، قَالَ: " مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ صَلَّى، وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: فَصَلَّى الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ، ثُمَّ صَلَّى بَعْدَهَا أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، فَأَتَمَّ، وَقَالَ سَوَّارٌ: يُتِمُّ رُكُوعَهُنَّ وَسُجُودَهُنَّ وَيَعْلَمُ مَا يَقْتَرِئُ، وَقَالَ سَوَّارٌ: يَقْرَأُ فِيهِنَّ كُنَّ لَهُ بِمَنْزِلَةِ لَيْلَةِ الْقَدْرِ".
کعب الاحبار کہتے ہیں کہ جس نے وضو کیا اور خوب اچھی طرح وضو کیا پھر نماز ادا کی ، ( عبدالرحمٰن کی روایت میں ہے ، پھر نماز عشاء کی جماعت میں شریک ہوا ) ، پھر اس کے بعد چار رکعتیں رکوع اور سجدہ کے اتمام کے ساتھ اور پڑھیں ، اور جو کچھ قرأت کیا اسے سمجھا بھی تو یہ سب اس کے لیے شب قدر کے مثل باعث اجر ہوں گی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4957]
قال الشيخ الألباني:
مقطوع موقوف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 1749، 19241) (ضعیف) (اس کے راوی ’’ایمن‘‘ مجہول ہیں)