سنن النسائي حدیث نمبر: 4843
Sunan an-Nasa'i 4843
کتاب #50: کتاب: قسامہ، قصاص اور دیت کے احکام و مسائل
41: بَابُ : هَلْ يُؤْخَذُ أَحَدٌ بِجَرِيرَةِ غَيْرِهِ
باب: کیا کسی کو دوسرے کے جرم میں گرفتار کیا جا سکتا ہے؟
أخبرنا يوسف بن عيسى قال أنبأنا الفضل بن موسى قال أنبأنا يزيد وهو بن زياد بن أبي الجعد عن جامع بن شداد عن طارق المحاربي أن رجلا قال: يا رسول الله هؤلاء بنو ثعلبة الذين قتلوا فلانا في الجاهلية فخذ لنا بثأرنا فرفع يديه حتى رأيت بياض إبطيه وهو يقول لا تجني أم على ولد مرتين
طارق محاربی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کہا : اللہ کے رسول ! یہ بنو ثعلبہ ہیں جنہوں نے زمانہ جاہلیت میں فلاں کو قتل کیا تھا ، لہٰذا آپ ہمارا بدلہ دلائیے ، تو آپ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے یہاں تک کہ میں نے آپ کی بغل کی سفیدی دیکھی ، آپ فرما رہے تھے : ” کسی ماں کا قصور کسی بیٹے پر نہیں ہو گا “ ایسا آپ نے دو مرتبہ کہا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4843]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 4989)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الدیات 26 (2670) (صحیح)