سنن النسائي حدیث نمبر: 4834
Sunan an-Nasa'i 4834
کتاب #50: کتاب: قسامہ، قصاص اور دیت کے احکام و مسائل
40: بَابُ : صِفَةِ شِبْهِ الْعَمْدِ
باب: قتل شبہ عمد کی تشریح اور اس بات کا بیان کہ بچے کی اور شبہ عمد کی دیت کس پر ہو گی اور اس بابت مغیرہ رضی الله عنہ کی حدیث میں راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ , وَمُحَمَّدُ بْنُ مُصَفَّى , قَالَا: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ تَطَبَّبَ وَلَمْ يُعْلَمْ مِنْهُ طِبٌّ قَبْلَ ذَلِكَ فَهُوَ ضَامِنٌ".
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو علاج معالجہ کرے ، اور اس سے پہلے اس کے بارے میں یہ معلوم نہیں ہے کہ وہ طبیب ہے ، تو ( کسی گڑبڑی کے وقت ) وہ ضامن ہو گا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4834]
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، [4834.4835] إسناده ضعيف، ابو داود (4586) ابن ماجه (3466) ابن جريج مدلس وعنعن. وللحديث شاهد ضعيف،. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 357
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الدیات 25 (4586)، سنن ابن ماجہ/الطب 16 (3466)، (تحفة الأشراف: 8746) (حسن)