سنن النسائي حدیث نمبر: 4830
Sunan an-Nasa'i 4830
کتاب #50: کتاب: قسامہ، قصاص اور دیت کے احکام و مسائل
40: بَابُ : صِفَةِ شِبْهِ الْعَمْدِ
باب: قتل شبہ عمد کی تشریح اور اس بات کا بیان کہ بچے کی اور شبہ عمد کی دیت کس پر ہو گی اور اس بابت مغیرہ رضی الله عنہ کی حدیث میں راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، قَالَ: سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نُضَيْلَةَ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ: أَنَّ رَجُلًا مِنْ هُذَيْلٍ كَانَ لَهُ امْرَأَتَانِ , فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِعَمُودِ الْفُسْطَاطِ فَأَسْقَطَتْ، فَقِيلَ: أَرَأَيْتَ مَنْ لَا أَكَلْ وَلَا شَرِبَ وَلَا صَاحَ فَاسْتَهَلَّ؟ فَقَالَ: " أَسَجْعٌ كَسَجْعِ الْأَعْرَابِ؟"، فَقَضَى فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ , وَجُعِلَتْ عَلَى عَاقِلَةِ الْمَرْأَةِ". أَرْسَلَهُ الْأَعْمَشُ.
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہذیل کے ایک شخص کی دو بیویاں تھیں ، ان میں سے ایک نے دوسری کو خیمے کی لکڑی سے مارا ، جس سے اس کا حمل ساقط ہو گیا ، عرض کیا گیا : جس نے نہ کھایا ، نہ پیا ، جو نہ چیخا نہ چلایا ، اس کے بارے میں کیا خیال ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” یہ تو دیہاتیوں کی سی سجع ہے ؟ “ پھر آپ نے اس میں ایک «غرہ» یعنی ایک غلام یا ایک لونڈی دینے کا فیصلہ کیا ، اور اس کی ذمہ داری ( قاتل ) عورت کے کنبے والوں پر ٹھہرائی ۔ اعمش نے اسے مرسل روایت کیا ہے ۔ ( ان کی روایت آگے آ رہی ہے ) [سنن نسائي/حدیث: 4830]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 4825 (صحیح)