سنن النسائي حدیث نمبر: 4731
Sunan an-Nasa'i 4731
کتاب #50: کتاب: قسامہ، قصاص اور دیت کے احکام و مسائل
6: بَابُ : ذِكْرِ اخْتِلاَفِ النَّاقِلِينَ لِخَبَرِ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ فِيهِ
باب: اس سلسلہ میں علقمہ بن وائل کی حدیث میں راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، عَنْ سِمَاكٍ , ذَكَرَ أَنَّ عَلْقَمَةَ بْنَ وَائِلٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ قَاعِدًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , إِذْ جَاءَ رَجُلٌ يَقُودُ آخَرَ بِنِسْعَةٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَتَلَ هَذَا أَخِي، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَقَتَلْتَهُ"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ لَمْ يَعْتَرِفْ أَقَمْتُ عَلَيْهِ الْبَيِّنَةَ، قَالَ: نَعَمْ قَتَلْتُهُ، قَالَ: " كَيْفَ قَتَلْتَهُ؟"، قَالَ: كُنْتُ أَنَا وَهُوَ نَحْتَطِبُ مِنْ شَجَرَةٍ فَسَبَّنِي فَأَغْضَبَنِي فَضَرَبْتُ بِالْفَأْسِ عَلَى قَرْنِهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ لَكَ مِنْ مَالٍ تُؤَدِّيهِ عَنْ نَفْسِكَ؟"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَالِي إِلَّا فَأْسِي وَكِسَائِي، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتُرَى قَوْمَكَ يَشْتَرُونَكَ؟"، قَالَ: أَنَا أَهْوَنُ عَلَى قَوْمِي مِنْ ذَاكَ فَرَمَى بِالنِّسْعَةِ إِلَى الرَّجُلِ، فَقَالَ: دُونَكَ صَاحِبَكَ، فَلَمَّا وَلَّى، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ قَتَلَهُ فَهُوَ مِثْلُهُ"، فَأَدْرَكُوا الرَّجُلَ، فَقَالُوا: وَيْلَكَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنْ قَتَلَهُ فَهُوَ مِثْلُهُ"، فَرَجَعَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، حُدِّثْتُ أَنَّكَ قُلْتَ: " إِنْ قَتَلَهُ فَهُوَ مِثْلُهُ"، وَهَلْ أَخَذْتُهُ إِلَّا بِأَمْرِ، فَقَالَ: " مَا تُرِيدُ أَنْ يَبُوءَ بِإِثْمِكَ , وَإِثْمِ صَاحِبِكَ"، قَالَ: بَلَى، قَالَ: " فَإِنْ ذَاكَ"، قَالَ: ذَلِكَ كَذَلِكَ.
وائل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، اتنے میں ایک شخص دوسرے کو ایک رسی میں گھسیٹتا ہوا آیا ، اور کہا : اللہ کے رسول ! اس نے میرے بھائی کو قتل کیا ہے ، آپ نے فرمایا : ” کیا تم نے اسے قتل کیا ہے ؟ “ ، اس نے ( لانے والے نے ) کہا : اللہ کے رسول ! اگر یہ اقبال جرم نہیں کرتا تو میں گواہ لاتا ہوں ، اس ( قاتل ) نے کہا : ہاں ، اسے میں نے قتل کیا ہے ، آپ نے فرمایا : ” اسے تم نے کیسے قتل کیا ؟ “ اس نے کہا : میں اور وہ ایک درخت سے ایندھن جمع کر رہے تھے ، اتنے میں اس نے مجھے گالی دی ، مجھے غصہ آیا اور میں نے اس کے سر پر کلہاڑی مار دی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تمہارے پاس کچھ مال ہے جس سے اپنی جان کے بدلے تم اس کی دیت دے سکو “ ، اس نے کہا : میرے پاس سوائے اس کلہاڑی اور کمبل کے کچھ نہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : ” کیا تم سمجھتے ہو کہ تمہارا قبیلہ تمہیں خرید لے گا ( یعنی تمہاری دیت دیدے گا ) وہ بولا : میری اہمیت میرے قبیلہ میں اس ( مال ) سے بھی کمتر ہے ، پھر آپ نے رسی اس شخص ( ولی ) کے سامنے پھینک دی اور فرمایا : ” تمہارا آدمی تمہارے سامنے ہے “ ، جب وہ پلٹ کر چلا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر اس نے اسے قتل کر دیا تو یہ بھی اسی جیسا ہو گا “ ، لوگوں نے اس شخص کو پکڑ کر کہا : تمہارا برا ہو ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” اگر اس نے اسے قتل کر دیا تو یہ بھی اسی جیسا ہو گا “ ، یہ سن کر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لوٹ آیا اور بولا : اللہ کے رسول ! مجھے بتایا گیا ہے کہ آپ نے فرمایا : ” اگر اس نے اسے قتل کر دیا تو یہ بھی اسی جیسا ہو گا “ ، میں نے تو آپ ہی کے حکم سے اسے پکڑا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” کیا تم نہیں چاہتے کہ یہ تمہارا گناہ اور تمہارے آدمی کا گناہ سمیٹ لے ؟ “ ، اس نے کہا : کیوں نہیں ؟ آپ نے فرمایا : ” تو یہی ہو گا “ ، اس نے کہا : تو ایسا ہی سہی ( میں اسے چھوڑ دیتا ہوں ) ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4731]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 4727 (صحیح)