سنن النسائي حدیث نمبر: 4730
Sunan an-Nasa'i 4730
کتاب #50: کتاب: قسامہ، قصاص اور دیت کے احکام و مسائل
6: بَابُ : ذِكْرِ اخْتِلاَفِ النَّاقِلِينَ لِخَبَرِ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ فِيهِ
باب: اس سلسلہ میں علقمہ بن وائل کی حدیث میں راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ وَهُوَ الْحَوْضِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَامِعُ بْنُ مَطَرٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ قَاعِدًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , جَاءَ رَجُلٌ فِي عُنُقِهِ نِسْعَةٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ هَذَا وَأَخِي كَانَا فِي جُبٍّ يَحْفِرَانِهَا , فَرَفَعَ الْمِنْقَارَ فَضَرَبَ بِهِ رَأْسَ صَاحِبِهِ فَقَتَلَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اعْفُ عَنْهُ"، فَأَبَى وَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ , إِنَّ هَذَا وَأَخِي كَانَا فِي جُبٍّ يَحْفِرَانِهَا فَرَفَعَ الْمِنْقَارَ فَضَرَبَ بِهِ رَأْسَ صَاحِبِهِ فَقَتَلَهُ، فَقَالَ: " اعْفُ عَنْهُ"، فَأَبَى، ثُمَّ قَامَ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ هَذَا وَأَخِي كَانَا فِي جُبٍّ يَحْفِرَانِهَا فَرَفَعَ الْمِنْقَارَ أُرَاهُ، قَالَ: فَضَرَبَ رَأْسَ صَاحِبِهِ فَقَتَلَهُ، فَقَالَ: " اعْفُ عَنْهُ"، فَأَبَى، قَالَ: " اذْهَبْ , إِنْ قَتَلْتَهُ كُنْتَ مِثْلَهُ"، فَخَرَجَ بِهِ حَتَّى جَاوَزَ، فَنَادَيْنَاهُ أَمَا تَسْمَعُ مَا يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَرَجَعَ، فَقَالَ: إِنْ قَتَلْتُهُ كُنْتُ مِثْلَهُ، قَالَ: نَعَمْ، أَعْفُ , فَخَرَجَ يَجُرُّ نِسْعَةٌ حَتَّى خَفِيَ عَلَيْنَا.
وائل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک شخص آیا ، اس کی گردن میں رسی پڑی تھی ، اور بولا : اللہ کے رسول ! یہ اور میرا بھائی دونوں ایک کنویں پر تھے ، اسے کھود رہے تھے ، اتنے میں اس نے کدال اٹھائی اور اپنے ساتھی یعنی میرے بھائی کے سر پر ماری ، جس سے وہ مر گیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے معاف کر دو “ ، اس نے انکار کیا ، اور کہا : اللہ کے نبی ! یہ اور میرا بھائی ایک کنویں پر تھے ، اسے کھود رہے تھے ، پھر اس نے کدال اٹھائی ، اور اپنے ساتھی کے سر پر ماری ، جس سے وہ مر گیا ، آپ نے فرمایا : ” اسے معاف کر دو “ ، تو اس نے انکار کیا ، پھر وہ کھڑا ہوا اور بولا : اللہ کے رسول ! یہ اور میرا بھائی ایک کنویں پر تھے ، اسے کھود رہے تھے ، اس نے کدال اٹھائی ، اور اپنے ساتھی کے سر پر ماری ، جس سے وہ مر گیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے معاف کر دو “ ، اس نے انکار کیا ، آپ نے فرمایا : ” جاؤ ، اگر تم نے اسے قتل کیا تو تم بھی اسی جیسے ہو گے “ ۱؎ ، وہ اسے لے کر نکل گیا ، جب دور نکل گیا تو ہم نے اسے پکارا ، کیا تم نہیں سن رہے ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا فرما رہے ہیں ؟ وہ واپس آیا تو آپ نے فرمایا : ” اگر تم نے اسے قتل کیا تو تم بھی اسی جیسے ہو گے “ ، اس نے کہا : ہاں ، میں اسے معاف کرتا ہوں ، چنانچہ وہ نکلا ، وہ اپنی رسی گھسیٹ رہا تھا یہاں تک کہ ہماری نظروں سے اوجھل ہو گیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4730]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی: کسی جان کو مارنے میں تم اور وہ ایک ہی طرح ہو گے، تمہاری اس پر کوئی فضیلت باقی نہیں رہ جائے گی، اور اگر معاف کر دو گے تو فضل و احسان میں تم کو اس پر فضیلت حاصل ہو جائے گی، خاص طور پر جب اس نے یہ قتل جان بوجھ کر نہیں کیا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 4827 (صحیح)