سنن النسائي حدیث نمبر: 473
Sunan an-Nasa'i 473
کتاب #8: کتاب: نماز کے احکام و مسائل
14: بَابُ : الْمُحَافَظَةِ عَلَى صَلاَةِ الْعَصْرِ
باب: نماز عصر کی محافظت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي يُونُسَ مَوْلَى عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَمَرَتْنِي عَائِشَةُ أَنْ أَكْتُبَ لَهَا مُصْحَفًا، فَقَالَتْ: إِذَا بَلَغْتَ هَذِهِ الْآيَةَ فَآذِنِّي حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاةِ الْوُسْطَى سورة البقرة آية 238، فَلَمَّا بَلَغْتُهَا آذَنْتُهَا، فَأَمْلَتْ عَلَيَّ: " حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى وَصَلَاةِ الْعَصْرِ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ". ثُمَّ قَالَتْ: سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام ابو یونس کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے حکم دیا کہ میں ان کے لیے ایک مصحف لکھوں ، اور کہا : جب اس آیت کریمہ : «حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى» ( البقرہ : ۲۸۳ ) پر پہنچنا تو مجھے بتانا ، چنانچہ جب میں اس آیت پر پہنچا تو میں نے انہیں بتایا ، تو انہوں نے مجھے املا کرایا «حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى وصلاة العصر وقوموا لله قانتين» پھر انہوں نے کہا : میں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 473]
💡 وضاحت:
۱؎: اس روایت سے ظاہر ہوتا ہے کہ صلاۃ وسطیٰ عصر کے علاوہ کوئی اور صلاۃ ہے إلاّ یہ کہ اسے عطف تفسیری مانا جائے، اور صحیح بھی یہی لگتا ہے کہ اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت کی تفسیر کے طور پر ذکر کیا ہو گا، اور اسے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے آیت کا جزء سمجھ لیا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/المساجد 39 (629)، سنن ابی داود/الصلاة 5 (410)، سنن الترمذی/تفسیر البقرة (2982)، موطا امام مالک/صلاة الجماعة 8 (25)، (تحفة الأشراف: 17809)، مسند احمد 6/73، 178 (صحیح)