سنن النسائي حدیث نمبر: 4325
Sunan an-Nasa'i 4325
کتاب #47: کتاب: شکار اور ذبیحہ کے احکام و مسائل
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مَنْصُورٍ الْبَلْخِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ سَلَّامُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا، فَأَصَابَ النَّاسُ ضِبَابًا، فَأَخَذْتُ ضَبًّا فَشَوَيْتُهُ، ثُمَّ أَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَأَخَذَ عُودًا يَعُدُّ بِهِ أَصَابِعَهُ، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ أُمَّةً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ , مُسِخَتْ دَوَابَّ فِي الْأَرْضِ، وَإِنِّي لَا أَدْرِي أَيُّ الدَّوَابِّ هِيَ"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ النَّاسَ قَدْ أَكَلُوا مِنْهَا، قَالَ: فَمَا أَمَرَ بِأَكْلِهَا، وَلَا نَهَى.
ثابت بن یزید انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ہم ایک جگہ ٹھہرے ، لوگوں کو ضب ملی ، میں نے ایک ضب پکڑی اور اسے بھونا ، پھر اسے لے کر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، آپ نے ایک لکڑی لی اور اس کی انگلیاں گنیں ، پھر فرمایا : ” بنی اسرائیل کے کچھ لوگوں کی شکل مسخ کر کے زمین کے کچھ جانوروں کی طرح بنا دی گئی ، مجھے نہیں معلوم کہ وہ کون سا جانور ہے “ ۱؎ ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! لوگوں نے اس میں سے کھا لیا ہے ، تو پھر نہ آپ نے کھانے کا حکم دیا اور نہ ہی روکا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4325]
💡 وضاحت:
۱؎: احتمال ہے کہ آپ کا یہ فرمان اس وقت کا ہو جب آپ کو یہ علم نہیں تھا کہ مسخ کی ہوئی مخلوق تین دن سے زیادہ مدت تک باقی نہیں رہتی۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الأطعمة 28 (3795)، سنن ابن ماجہ/الصید 16 (3238)، (تحفة الأشراف: 2069)، مسند احمد (4/220)، ویأتي فیما یلي: 4326، 4327 (صحیح الإسناد)