سنن النسائي حدیث نمبر: 4322
Sunan an-Nasa'i 4322
کتاب #47: کتاب: شکار اور ذبیحہ کے احکام و مسائل
26: بَابُ : الضَّبِّ
باب: ضب کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ وَهِيَ خَالَتُهُ، فَقُدِّمَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَحْمُ ضَبٍّ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَأْكُلُ شَيْئًا حَتَّى يَعْلَمَ مَا هُوَ، فَقَالَ بَعْضُ النِّسْوَةِ: أَلَا تُخْبِرْنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَأْكُلُ؟، فَأَخْبَرَتْهُ أَنَّهُ لَحْمُ ضَبٍّ , فَتَرَكَهُ، قَالَ خَالِدٌ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَحَرَامٌ هُوَ؟، قَالَ: " لَا، وَلَكِنَّهُ طَعَامٌ لَيْسَ فِي أَرْضِ قَوْمِي فَأَجِدُنِي أَعَافُهُ". قَالَ خَالِدٌ: فَاجْتَرَرْتُهُ إِلَيَّ , فَأَكَلْتُهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ. وَحَدَّثَهُ ابْنُ الْأَصَمِّ، عَنْ مَيْمُونَةَ، وَكَانَ فِي حِجْرِهَا.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہیں خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ۱؎ نے بتایا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے ( یہ ان کی خالہ تھیں ) ۲؎ ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ضب کا گوشت پیش کیا گیا ، آپ کا معمول تھا کہ آپ کوئی چیز نہ کھاتے جب تک معلوم نہ ہو جائے کہ وہ کیا ہے ، تو امہات المؤمنین رضی اللہ عنہم میں سے کسی نے کہا : کیا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں بتاؤ گی کہ آپ کیا کھا رہے ہیں ؟ تو انہوں نے آپ کو بتایا کہ یہ ضب کا گوشت ہے ، چنانچہ آپ نے اسے چھوڑ دیا ، خالد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : کیا وہ حرام ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” نہیں ، لیکن وہ ایسا کھانا ہے جو میری قوم کی زمین میں نہیں ہوتا ، اس لیے مجھے اس سے گھن آ رہی ہے “ ۔ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : تو میں نے اسے اپنی طرف کھینچا اور اسے کھایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ رہے تھے ۔ اس حدیث کو ابن الاصم نے ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے ، ابن الاصم آپ کی گود میں پلے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4322]
💡 وضاحت:
۱؎: ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا ابن عباس کے دونوں بیٹے عبداللہ اور فضل اور خالد بن الولید تین کی خالہ ہیں، عبداللہ بن عباس کی والدہ کا نام لبابۃ الکبری ام الفضل ہے، اور خالد کی والدہ کا نام لبابۃ الصغریٰ بنت حارث بن حزن الھلالی ہے، رضی اللہ عنھن۔ ۲؎: ام المؤمنین خالد بن ولید رضی اللہ عنہما کی خالہ تھیں، ابن الاصم یہ یزید بن الاصم، عمرو بن عبید بن معاویہ ہیں اور یزید میمونہ رضی اللہ عنہا کے بھانجے ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح)