سنن النسائي حدیث نمبر: 4321
Sunan an-Nasa'i 4321
کتاب #47: کتاب: شکار اور ذبیحہ کے احکام و مسائل
26: بَابُ : الضَّبِّ
باب: ضب کا بیان۔
أَخْبَرَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَرْبٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِضَبٍّ مَشْوِيٍّ , فَقُرِّبَ إِلَيْهِ، فَأَهْوَى إِلَيْهِ بِيَدِهِ لِيَأْكُلَ مِنْهُ، قَالَ لَهُ مَنْ حَضَرَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ لَحْمُ ضَبٍّ , فَرَفَعَ يَدَهُ عَنْهُ، فَقَالَ لَهُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَحَرَامٌ الضَّبُّ؟، قَالَ: " لَا، وَلَكِنْ لَمْ يَكُنْ بِأَرْضِ قَوْمِي فَأَجِدُنِي أَعَافُهُ"، فَأَهْوَى خَالِدٌ إِلَى الضَّبِّ فَأَكَلَ مِنْهُ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ.
خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھنا ہوا ضب لایا گیا اور آپ کے قریب رکھا گیا ، آپ نے اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھایا تاکہ اس سے کھائیں ، تو وہاں موجود کچھ لوگوں نے آپ سے کہا : اللہ کے رسول ! یہ تو ضب کا گوشت ہے ، آپ نے اس سے اپنا ہاتھ اٹھا لیا ، اس پر خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے آپ سے کہا کہ اللہ کے رسول ! کیا ضب حرام ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” نہیں ، لیکن میری قوم کی زمین میں نہیں تھا ، لہٰذا مجھے اس سے گھن آ رہی ہے “ ، پھر خالد رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ ضب کی طرف بڑھایا اور اس میں سے کھایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ رہے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4321]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الأطعمة 10 (5391)، 14 (5400)، الذبائح 33 (5537)، صحیح مسلم/الذبائح 7 (1946)، سنن ابی داود/الأطعمة 28 (3794)، سنن ابن ماجہ/الصید 16 (3241)، (تحفة الأشراف: 3504)، موطا امام مالک/الإستئذان 4 (10)، مسند احمد (4/88، 89)، سنن الدارمی/الصید 8 (2060) (صحیح)