سنن النسائي حدیث نمبر: 4201
Sunan an-Nasa'i 4201
کتاب #44: کتاب: بیعت کے احکام و مسائل
30: بَابُ : ذِكْرِ مَا يَجِبُ لِلإِمَامِ وَمَا يَجِبُ عَلَيْهِ
باب: امام اور حاکم کے حقوق و واجبات اور ذمہ داریوں کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الزِّنَادِ، مِمَّا حَدَّثَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجُ، مِمَّا ذَكَرَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّمَا الْإِمَامُ جُنَّةٌ، يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ، وَيُتَّقَى بِهِ، فَإِنْ أَمَرَ بِتَقْوَى اللَّهِ وَعَدَلَ، فَإِنَّ لَهُ بِذَلِكَ أَجْرًا، وَإِنْ أَمَرَ بِغَيْرِهِ، فَإِنَّ عَلَيْهِ وِزْرًا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” امام ایک ڈھال ہے جس کے زیر سایہ ۱؎ سے لڑا جاتا ہے اور اس کے ذریعہ سے جان بچائی جاتی ہے ۔ لہٰذا اگر وہ اللہ سے تقویٰ کا حکم دے اور انصاف کرے تو اسے اس کا اجر ملے گا ، اور اگر وہ اس کے علاوہ کا حکم دے تو اس کا وبال اسی پر ہو گا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4201]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اس کی رائے سے اور اس کی قیادت میں جنگ لڑی جاتی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الجہاد 109(2957)، (تحفة الأشراف: 3741)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الإمارة 9 (1841)، سنن ابی داود/الجہاد 163 (2757) (صحیح)