سنن النسائي حدیث نمبر: 4145
Sunan an-Nasa'i 4145
کتاب #43: کتاب: مال فی کی تقسیم سے متعلق احکام و مسائل
بَابُ :
باب:
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ، عَنْ عُمَرَ، قَالَ: " كَانَتْ أَمْوَالُ بَنِي النَّضِيرِ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِمَّا لَمْ يُوجِفَ الْمُسْلِمُونَ عَلَيْهِ بِخَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ، فَكَانَ يُنْفِقُ عَلَى نَفْسِهِ مِنْهَا قُوتَ سَنَةٍ , وَمَا بَقِيَ جَعَلَهُ فِي الْكُرَاعِ، وَالسِّلَاحِ عُدَّةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ".
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بنی نضیر کا مال غنیمت مال فی میں سے تھا جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو عطا کیا یعنی مسلمانوں نے اس پر نہ گھوڑے دوڑائے اور نہ جنگ کی ۔ آپ اسی میں سے سال بھر کا خرچ اپنے اوپر کرتے ، جو بچ جاتا اسے گھوڑوں اور ہتھیار میں جہاد کی تیاری کے لیے صرف کرتے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4145]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الجہاد 80 (2904)، الخمس 1 (3094)، المغازي 14 (4033)، تفسیرسورة الحشر 3 (4885)، النفقات 3 (5357)، الفرائض 3 (6728)، الاعتصام 5 (7305)، صحیح مسلم/الجہاد 15 (1757)، سنن ابی داود/الخراج 19 (2965)، سنن الترمذی/السیر 44 (1610)، الجہاد 39 (1719)، (تحفة الأشراف: 10631)، مسند احمد (1/25، 48) (صحیح)