📖 سنن النسائي • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن النسائي

Sunan an-Nasa'i (سُنَنُ النَّسَائِيِّ (المجتبى))
📁 کتاب: قتل و خون ریزی کے احکام و مسائل (كتاب تحريم الدم) 🏷️ باب: باب: جو تلوار نکال کر لوگوں پر چلانا شروع کر دے۔
عربی:
اردو:
سنن النسائي حدیث نمبر: 4108 Sunan an-Nasa'i 4108
کتاب #42: کتاب: قتل و خون ریزی کے احکام و مسائل
26: بَابُ : مَنْ شَهَرَ سَيْفَهُ ثُمَّ وَضَعَهُ فِي النَّاسِ
باب: جو تلوار نکال کر لوگوں پر چلانا شروع کر دے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ الْبَصْرِيُّ الْحَرَّانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ شِهَابٍ، قَالَ: كُنْتُ أَتَمَنَّى أَنْ أَلْقَى رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُهُ عَنِ الْخَوَارِجِ؟، فَلَقِيتُ أَبَا بَرْزَةَ فِي يَوْمِ عِيدٍ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَقُلْتُ لَهُ: هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ الْخَوَارِجَ؟، فَقَالَ: نَعَمْ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُذُنِي، وَرَأَيْتُهُ بِعَيْنِي , أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَالٍ , فَقَسَمَهُ فَأَعْطَى مَنْ عَنْ يَمِينِهِ، وَمَنْ عَنْ شِمَالِهِ، وَلَمْ يُعْطِ مَنْ وَرَاءَهُ شَيْئًا , فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ وَرَائِهِ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، مَا عَدَلْتَ فِي الْقِسْمَةِ؟ رَجُلٌ أَسْوَدُ مَطْمُومُ الشَّعْرِ عَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَبْيَضَانِ، فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَضَبًا شَدِيدًا، وَقَالَ: " وَاللَّهِ لَا تَجِدُونَ بَعْدِي رَجُلًا هُوَ أَعْدَلُ مِنِّي"، ثُمَّ قَالَ: " يَخْرُجُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ كَأَنَّ هَذَا مِنْهُمْ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ، لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، سِيمَاهُمُ التَّحْلِيقُ , لَا يَزَالُونَ يَخْرُجُونَ حَتَّى يَخْرُجَ آخِرُهُمْ مَعَ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ , فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاقْتُلُوهُمْ هُمْ شَرُّ الْخَلْقِ وَالْخَلِيقَةِ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ رَحِمَهُ اللَّهُ: شَرِيكُ بْنُ شِهَابٍ لَيْسَ بِذَلِكَ الْمَشْهُورِ.
شریک بن شہاب کہتے ہیں کہ میری خواہش تھی کہ میں صحابہ رسول میں سے کسی صحابی سے ملوں اور ان سے خوارج کے متعلق سوال کروں ، تو میری ملاقات عید کے دن ابوبرزہ رضی اللہ عنہ سے ان کے شاگردوں کی جماعت میں ہوئی ۔ میں نے ان سے کہا : کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوارج کا تذکرہ کرتے سنا ہے ؟ کہا : ہاں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے کانوں سے سنا اور اپنی آنکھوں سے دیکھا ، آپ کے پاس کچھ مال آیا ، آپ نے اسے تقسیم کیا اور اپنے دائیں اور بائیں جانب کے لوگوں کو دے دیا اور اپنے پیچھے والوں کو کچھ نہیں دیا ۔ ایک شخص آپ کے پیچھے سے کھڑا ہوا اور بولا : محمد ! آپ نے تقسیم میں انصاف نہیں کیا ۔ وہ ایک کالا ( سانولا ) شخص تھا ، جس کے بال منڈے ہوئے تھے اور دو سفید کپڑوں میں ملبوس تھا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سخت غضبناک ہوئے اور فرمایا : ” اللہ کی قسم ! تم میرے علاوہ کوئی ایسا شخص نہیں پاؤ گے جو مجھ سے زیادہ عادل ہو “ ۔ پھر فرمایا : ” آخری دور میں کچھ لوگ ہوں گے ( شاید ) یہ بھی انہیں میں سے ہو گا ، وہ قرآن پڑھیں گے ، مگر وہ ان کی ہنسلی سے نیچے نہ اترے گا ، وہ اسلام سے اسی طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے ۔ ان کی علامت یہ ہے کہ وہ سر منڈائے ہوں گے ۱؎ ، وہ ہمیشہ پیدا ہوتے رہیں گے یہاں تک کہ ان کا آخری شخص مسیح دجال کے ساتھ نکلے گا ، لہٰذا جب تم انہیں پاؤ تو قتل کر دو ، وہ بد نفس اور تمام مخلوقات میں بدتر ہیں “ ۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں : شریک بن شہاب مشہور نہیں ہیں ۲؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4108]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے یہ استدلال قطعا درست نہیں ہے کہ سر منڈانا نعوذباللہ مکروہ ہے کیونکہ کسی چیز کا کسی قوم کے لیے علامت و شناخت بننا یہ اس کے مباح ہونے کے منافی نہیں ہو سکتا، چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ایک بچے کو دیکھا کہ اس کے سر کے کچھ حصوں کا بال منڈا ہوا ہے اور کچھ کا چھوڑ دیا گیا ہے تو آپ نے فرمایا: اس کا پورا سر مونڈ دو یا پورا سر چھوڑ دو۔ آپ کا یہ فرمان سر منڈانے کے مباح ہونے کے لیے کافی ہے۔ ۲؎: یعنی مشہور نہیں ہیں بلکہ مقبول ہیں، اور مقبول اس کو کہتے ہیں جس کی دوسرے راوی سے متابعت پائی جائے تو اس کی روایت مقبول ہو گی، ورنہ وہ لین الحدیث ہو گا، یہاں اس حدیث کے اکثر ٹکڑوں کی متابعت موجود ہے، اس لیے حدیث مقبول ہو گی۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 11598)، مسند احمد (4/421، 424، 425) (صحیح) (سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی 2406، و تراجع الالبانی 422)
سنن النسائي • حدیث #4108
4106 4107 4108 4109 4110

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#4102 أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ...
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو اپنی ...
#4103 أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ م...
عبدالرزاق بھی اس سند سے اسی جیسی روایت کرتے ہیں ، لیکن وہ اسے مرفوع نہیں کرتے ( یعنی ابن زبیر کا قول...
#4104 أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ،...
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جس نے ہتھیار اٹھایا اور اسے لوگوں پر چلایا تو اس کا خون ر...
#4105 أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِ...
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے ہم پر ہ...
#4106 أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الثَّ...
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جس وقت علی رضی اللہ عنہ یمن میں تھے انہوں نے نبی اکرم صلی الل...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ