سنن النسائي حدیث نمبر: 4105
Sunan an-Nasa'i 4105
کتاب #42: کتاب: قتل و خون ریزی کے احکام و مسائل
26: بَابُ : مَنْ شَهَرَ سَيْفَهُ ثُمَّ وَضَعَهُ فِي النَّاسِ
باب: جو تلوار نکال کر لوگوں پر چلانا شروع کر دے۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَالِكٌ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ , وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، وَيُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، أَنَّ نَافِعًا أَخْبَرَهُمْ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلَاحَ فَلَيْسَ مِنَّا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے ہم پر ہتھیار اٹھایا تو وہ ہم میں سے نہیں ہے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4105]
💡 وضاحت:
۱؎: یہاں بھی ”ہتھیار اٹھانے“ سے مراد ”ناحق ہتھیار“ اٹھانا ہے، مسلمانوں کی ناحق خونریزی پر یہ شدید وعید سنائی گئی ہے کہ ایسے عمل کے مرتکب کو اگر قتل کر دیا جائے تو اس کے خون کا نہ تو قصاص ہے اور نہ ہی دیت۔ اور یہ کہ ایسا آدمی امت محمدیہ کے زمرہ سے خارج ہے۔ «فاعتبروا یا أولی الأبصار» (عبرت حاصل کرنی چاہیئے)۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الفتن 7 (7070)، صحیح مسلم/الإیمان 42 (98)، (تحفة الأشراف: 8364)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الحدود 19 (2576)، مسند احمد (2/3، 53) (صحیح)