سنن النسائي حدیث نمبر: 4106
Sunan an-Nasa'i 4106
کتاب #42: کتاب: قتل و خون ریزی کے احکام و مسائل
26: بَابُ : مَنْ شَهَرَ سَيْفَهُ ثُمَّ وَضَعَهُ فِي النَّاسِ
باب: جو تلوار نکال کر لوگوں پر چلانا شروع کر دے۔
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: بَعَثَ عَلِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْيَمَنِ بِذُهَيْبَةٍ فِي تُرْبَتِهَا , فَقَسَمَهَا بَيْنَ الْأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ الْحَنْظَلِيِّ، ثُمَّ أَحَدِ بَنِي مُجَاشِعٍ، وَبَيْنَ عُيَيْنَةَ بْنِ بَدْرٍ الْفَزَارِيِّ، وَبَيْنَ عَلْقَمَةَ بْنِ عُلَاثَةَ الْعَامِرِيِّ، ثُمَّ أَحَدِ بَنِي كِلَابٍ، وَبَيْنَ زَيْدِ الْخَيْلِ الطَّائِيِّ، ثُمَّ أَحَدِ بَنِي نَبْهَانَ، قَالَ: فَغَضِبَتْ قُرَيْشٌ , وَالْأَنْصَارُ، وَقَالُوا: يُعْطِي صَنَادِيدَ أَهْلِ نَجْدٍ وَيَدَعُنَا، فَقَالَ: " إِنَّمَا أَتَأَلَّفُهُمْ". فَأَقْبَلَ رَجُلٌ غَائِرَ الْعَيْنَيْنِ , نَاتِئَ الْوَجْنَتَيْنِ , كَثَّ اللِّحْيَةِ , مَحْلُوقَ الرَّأْسِ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ اتَّقِ اللَّهَ، قَالَ: " مَنْ يُطِعِ اللَّهَ إِذَا عَصَيْتُهُ , أَيَأْمَنُنِي عَلَى أَهْلِ الْأَرْضِ وَلَا تَأْمَنُونِي"، فَسَأَلَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ قَتْلَهُ , فَمَنَعَهُ فَلَمَّا وَلَّى، قَالَ: " إِنَّ مِنْ ضِئْضِئِ هَذَا قَوْمًا يَخْرُجُونَ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ , يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ , يَقْتُلُونَ أَهْلَ الْإِسْلَامِ وَيَدَعُونَ أَهْلَ الْأَوْثَانِ لَئِنْ أَنَا أَدْرَكْتُهُمْ لَأَقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ عَادٍ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جس وقت علی رضی اللہ عنہ یمن میں تھے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مٹی لگا ہوا سونے کا ایک ٹکڑا بھیجا ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اقرع بن حابس حنظلی ( جو بنی مجاشع کے ایک شخص تھے ) ، عیینہ بن بدر فزاری ، علقمہ بن علاثہ عامری ( جو بنی کلاب کے ایک شخص تھے ) ، زید الخیل طائی ( جو بنی نبہان کے ایک شخص تھے ) کے درمیان تقسیم کیا ، ابو سعید خدری کہتے ہیں : اس پر قریش اور انصار غصہ ہوئے اور بولے : آپ اہل نجد کے سرداروں کو دیتے ہیں اور ہمیں چھوڑ دیتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : ” میں تو صرف ان کی تالیف قلب کر رہا ہوں “ ، اتنے میں ایک شخص آیا ، اس کی آنکھیں بیٹھی ہوئی تھیں ، گال پھولے ہوئے تھے ، داڑھی گھنی تھی اور سر منڈا ہوا تھا ۔ وہ بولا : محمد ! اللہ سے ڈرو ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب میں ہی نافرمانی کرنے لگا تو اللہ کی اطاعت کون کرے گا ۔ مجھے اللہ تعالیٰ زمین والوں پر امین بنا رہا ہے اور تم میرا اعتبار نہیں کرتے ۔ اتنے میں لوگوں میں سے ایک شخص نے اس کے قتل کی اجازت طلب کی ، آپ نے اسے منع فرما دیا ۔ جب وہ لوٹ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کے خاندان میں کچھ ایسے لوگ ہوں گے جو قرآن پڑھیں گے مگر وہ ان کے حلق کے نیچے نہ اترے گا ، وہ دین سے اسی طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے ، وہ اہل اسلام کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو چھوڑ دیں گے ، اگر میں انہیں پا جاؤں تو انہیں عاد کے لوگوں کی طرح قتل کروں “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4106]
💡 وضاحت:
۱؎: کتاب تحریم الدم یا کتاب المحاربۃ (جنگ) سے مطابقت اسی جملے سے ہے، یعنی: خارجیوں کا خون بہانا جائز ہے، اس لیے علی رضی اللہ عنہ نے ان سے جنگ کی تھی۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2579 (صحیح)